صحیح بخاری حدیث ۶۴۲۹ - گواہی اور قسم میں احتیاط
گواہی اور قسم کی حدیث: زبان کی ذمہ داری سمجھیں
صحیح بخاری : ۶۴۲۹
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۴۲۹
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَبِيدَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " خَيْرُ النَّاسِ قَرْنِي ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ، ثُمَّ يَجِيءُ مِنْ بَعْدِهِمْ قَوْمٌ تَسْبِقُ شَهَادَتُهُمْ أَيْمَانَهُمْ ، وَأَيْمَانُهُمْ شَهَادَتَهُمْ " .
عبداللہ بن مسعود روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”سب سے بہتر میرا زمانہ ہے، اس کے بعد ان لوگوں کا جو اس کے بعد ہوں گے پھر جو ان کے بعد ہوں گے اور اس کے بعد ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو قسم سے پہلے گواہی دیں گے کبھی گواہی سے پہلے قسم کھائیں گے۔“
صحیح بخاری حدیث ۶۴۲۹ کا خلاصہ
اس حدیث میں نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ سب سے بہتر لوگ میرے زمانے کے ہیں، پھر وہ جو ان کے بعد آئیں گے، پھر وہ جو ان کے بعد ہوں گے۔ اس کے بعد آپ صلى الله عليه وسلم نے ایسے لوگوں کا ذکر فرمایا جن کی گواہی ان کی قسم سے پہلے ہو گی اور قسم ان کی گواہی سے پہلے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ زبان کے معاملات میں بے احتیاطی بڑھ جائے گی۔ گواہی اور قسم دونوں بہت سنجیدہ چیزیں ہیں۔ حدیث ہمیں یہ سمجھاتی ہے کہ سچ بولنا، بغیر ضرورت قسم نہ کھانا اور گواہی کو ذمہ داری سمجھنا ضروری ہے۔ دین میں زبان کا استعمال صرف الفاظ نہیں، بلکہ کردار کا حصہ ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- گواہی دینے سے پہلے سچ اور ذمہ داری کو سامنے رکھنا چاہیے۔
- قسم کو معمولی بات نہیں سمجھنا چاہیے۔
- بہترین زمانوں کا ذکر کردار کی مضبوطی کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔
- زبان کی بے احتیاطی اعتماد کو کم کر دیتی ہے۔
