صحیح بخاری حدیث ۶۴۲۸ - بہترین زمانہ اور امانت کی کمی
بہترین زمانہ کی حدیث اور امانت داری کا سبق
صحیح بخاری : ۶۴۲۸
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۴۲۸
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا جَمْرَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي زَهْدَمُ بْنُ مُضَرِّبٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " خَيْرُكُمْ قَرْنِي ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ " ، قَالَ عِمْرَانُ : فَمَا أَدْرِي ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ قَوْلِهِ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا ، ثُمَّ يَكُونُ بَعْدَهُمْ قَوْمٌ يَشْهَدُونَ ، وَلَا يُسْتَشْهَدُونَ ، وَيَخُونُونَ وَلَا يُؤْتَمَنُونَ ، وَيَنْذُرُونَ وَلَا يَفُونَ ، وَيَظْهَرُ فِيهِمُ السِّمَنُ .
عمران بن حصین روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تم میں سب سے بہتر میرا زمانہ ہے، پھر ان لوگوں کا زمانہ ہے جو اس کے بعد ہوں گے۔“عمران نے بیان کیا کہ مجھے نہیں معلوم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد کو دو مرتبہ دہرایا یا تین مرتبہ۔ پھر اس کے بعد وہ لوگ ہوں گے کہ وہ گواہی دیں گے لیکن ان کی گواہی قبول نہیں کی جائے گی، وہ خیانت کریں گے اور ان پر سے اعتماد جاتا رہے گا۔ وہ نذر مانیں گے لیکن پوری نہیں کریں گے اور ان میں موٹاپا پھیل جائے گا۔
صحیح بخاری حدیث ۶۴۲۸ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے اپنے زمانے کو سب سے بہتر بتایا، پھر اس کے بعد آنے والوں کا ذکر فرمایا۔ راوی عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کو شک رہا کہ آپ صلى الله عليه وسلم نے یہ ترتیب دو مرتبہ بیان فرمائی یا تین مرتبہ۔ اس کے بعد آپ صلى الله عليه وسلم نے ایسے لوگوں کا ذکر کیا جو گواہی دیں گے مگر ان کی گواہی قبول نہیں کی جائے گی، خیانت کریں گے اور ان پر اعتماد نہیں کیا جائے گا، نذر مانیں گے مگر پوری نہیں کریں گے، اور ان میں مٹاپا پھیل جائے گا۔ اس حدیث کا اصل پیغام یہ ہے کہ امانت، سچی گواہی اور وعدہ پورا کرنا دین دار زندگی کی پہچان ہے۔ صرف زمانہ بدلنے سے مسئلہ نہیں بنتا، اصل بات کردار کی حفاظت ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- بہترین لوگوں کی پہچان سچائی، امانت اور وفا سے ہوتی ہے۔
- گواہی دینا ذمہ داری ہے، اسے ہلکا نہیں لینا چاہیے۔
- نذر مان کر پوری نہ کرنا قابل گرفت رویہ ہے۔
- اعتماد کھو دینا انسان کے کردار کی کمزوری کو ظاہر کرتا ہے۔
