صحیح بخاری حدیث ۶۴۳۵ - دینار و درہم کا بندہ بننے سے بچیں
دینار و درہم کے بندے کی حدیث: مال کو دل کا مالک نہ بنائیں
صحیح بخاری : ۶۴۳۵
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۴۳۵
حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَعِسَ عَبْدُ الدِّينَارِ ، وَالدِّرْهَمِ ، وَالْقَطِيفَةِ ، وَالْخَمِيصَةِ ، إِنْ أُعْطِيَ رَضِيَ ، وَإِنْ لَمْ يُعْطَ لَمْ يَرْضَ " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”دینار و درہم کے بندے، عمدہ ریشمی چادروں کے بندے، سیاہ کملی کے بندے، تباہ ہو گئے کہ اگر انہیں دیا جائے تو وہ خوش ہو جاتے ہیں اور اگر نہ دیا جائے تو ناراض رہتے ہیں۔“
صحیح بخاری حدیث ۶۴۳۵ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے سخت تنبیہ فرمائی کہ دینار، درہم، ریشمی چادر اور کملی کے بندے تباہ ہو گئے۔ پھر آپ صلى الله عليه وسلم نے ان کی حالت بتائی کہ اگر انہیں دیا جائے تو خوش ہوتے ہیں، اور اگر نہ دیا جائے تو ناراض ہو جاتے ہیں۔ اس حدیث کا موضوع مال پرستی ہے۔ انسان کے پاس مال ہونا الگ بات ہے، لیکن مال کا بندہ بن جانا الگ بات ہے۔ جب خوشی اور ناراضی صرف ملنے یا نہ ملنے پر قائم ہو جائے تو دل کمزور ہو جاتا ہے۔ یہ حدیث ہمیں قناعت، شکر اور دل کی آزادی سکھاتی ہے۔ مال، لباس اور دنیاوی چیزیں ضرورت ہیں، مگر انسان کا اصل سہارا نہیں بن سکتیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مال یا لباس کو دل کا مالک نہیں بنانا چاہیے۔
- دینار و درہم پر حد سے زیادہ دل لگانا نقصان دہ ہے۔
- ملنے پر خوشی اور نہ ملنے پر ناراضی انسان کی کیفیت بتاتی ہے۔
- قناعت دل کو دنیا کی غلامی سے بچاتی ہے۔
