صحیح بخاری حدیث ۶۴۳۶ - انسان کی حرص اور توبہ کا دروازہ

حرص مال کی حدیث: دو وادیاں ہوں تو تیسری کی خواہش

صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۴۳۶

حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، يَقُولُ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " لَوْ كَانَ لِابْنِ آدَمَ وَادِيَانِ مِنْ مَالٍ لَابْتَغَى ثَالِثًا ، وَلَا يَمْلَأُ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ ، إِلَّا التُّرَابُ ، وَيَتُوبُ اللَّهُ عَلَى مَنْ تَابَ " .

ابن عباس روایت:

میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اگر انسان کے پاس مال کی دو وادیاں ہوں تو تیسری کا خواہشمند ہو گا اور انسان کا پیٹ مٹی کے سوا اور کوئی چیز نہیں بھر سکتی اور اللہ اس شخص کی توبہ قبول کرتا ہے جو (دل سے) سچی توبہ کرتا ہے۔“

صحیح بخاری حدیث ۶۴۳۶ کا خلاصہ

اس حدیث میں رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے انسان کی حرص کو بہت واضح مثال سے سمجھایا۔ اگر انسان کے پاس مال کی دو وادیاں ہوں تو وہ تیسری کی خواہش کرے گا۔ پھر فرمایا کہ انسان کا پیٹ مٹی کے سوا کوئی چیز نہیں بھر سکتی۔ اس کے آخر میں امید کا دروازہ بھی کھولا گیا کہ اللہ اس شخص کی توبہ قبول کرتا ہے جو سچی توبہ کرے۔ اس حدیث کا مقصد مال کو حرام کہنا نہیں، بلکہ بے قابو خواہش کو پہچاننا ہے۔ حرص مال کی حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ خواہش بڑھتی رہتی ہے، اس لیے انسان کو اپنے دل کو روکنا، شکر کرنا اور توبہ کی طرف پلٹنا چاہیے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • مال کی خواہش حد سے بڑھ جائے تو انسان مطمئن نہیں رہتا۔
  • انسانی حرص کا علاج شکر اور توبہ سے جڑا ہے۔
  • موت کی یاد دنیا کی بے قابو چاہت کو کم کر سکتی ہے۔
  • اللہ توبہ کرنے والے کی توبہ قبول فرماتا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں