صحیح بخاری حدیث ۶۴۳۹ - سونے کی وادی اور قبر کی مٹی
سونے کی وادی اور قبر کی مٹی کی حدیث
صحیح بخاری : ۶۴۳۹
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۴۳۹
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ صَالِحٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَوْ أَنَّ لِابْنِ آدَمَ وَادِيًا مِنْ ذَهَبٍ أَحَبَّ أَنْ يَكُونَ لَهُ وَادِيَانِ ، وَلَنْ يَمْلَأَ فَاهُ إِلَّا التُّرَابُ ، وَيَتُوبُ اللَّهُ عَلَى مَنْ تَابَ " .
انس بن مالک روایت:
´ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، ان سے صالح نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے کہ مجھے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے خبر دی` اور ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اگر انسان کے پاس سونے کی ایک وادی ہو تو وہ چاہے گا کہ دو ہو جائیں اور اس کا منہ قبر کی مٹی کے سوا اور کوئی چیز نہیں بھر سکتی اور اللہ اس کی توبہ قبول کرتا ہے جو توبہ کرے۔“
صحیح بخاری حدیث ۶۴۳۹ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے انسان کی حرص کو ایک گہری مثال سے بیان فرمایا۔ اگر انسان کے پاس سونے کی ایک وادی ہو تو وہ چاہے گا کہ دو ہو جائیں۔ پھر فرمایا کہ اس کا منہ قبر کی مٹی کے سوا کوئی چیز نہیں بھر سکتی۔ آخر میں فرمایا کہ اللہ اس شخص کی توبہ قبول کرتا ہے جو توبہ کرے۔ یہ حدیث مال کی زیادتی کے باوجود دل کی بے قراری کو سامنے لاتی ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ خواہش خود بخود ختم نہیں ہوتی۔ انسان کو موت کی حقیقت، توبہ اور شکر کے ذریعے اپنے دل کو سنبھالنا پڑتا ہے۔ مال مل جائے تو اسے مقصد نہیں، آزمائش سمجھنا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- سونا بھی انسان کی خواہش کو خود بخود ختم نہیں کرتا۔
- قبر کی مٹی کا ذکر موت کی یاد دلاتا ہے۔
- توبہ کرنے والے کے لیے اللہ کی قبولیت کا ذکر موجود ہے۔
- مال کو دل کا آخری مقصد نہیں بنانا چاہیے۔
