صحیح بخاری حدیث ۶۴۴۰ - الہاکم التکاثر اور مال کی چاہت

الہاکم التکاثر کی حدیث اور مال کی کثرت کا خیال

صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۴۴۰

وَقَالَ لَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنْ أُبَيٍّ ، قَالَ : كُنَّا نَرَى هَذَا مِنَ الْقُرْآنِ حَتَّى نَزَلَتْ : أَلْهَاكُمُ التَّكَاثُرُ .

ابی بن کعب روایت:

ہم اسے قرآن ہی میں سے سمجھتے تھے یہاں تک کہ آیت «ألهاكم التكاثر‏» نازل ہوئی۔

صحیح بخاری حدیث ۶۴۴۰ کا خلاصہ

اس روایت میں ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کا قول نقل ہوا ہے کہ ہم اسے قرآن میں سے سمجھتے تھے، یہاں تک کہ آیت الہاکم التکاثر نازل ہوئی۔ اس حدیث کا متن بہت مختصر ہے، اس لیے اس سے زیادہ بات نہیں بڑھائی جا سکتی۔ یہاں اشارہ اسی مضمون سے جڑا ہے جو پچھلی روایات میں انسان کی مال کی خواہش، وادیوں کی مثال اور توبہ کے ذکر کے ساتھ آیا ہے۔ چونکہ اس خاص روایت میں صرف یہ بیان ہے کہ صحابہ اسے قرآن سمجھتے تھے، پھر الہاکم التکاثر نازل ہوئی، اس لیے اصل توجہ نقل کی احتیاط پر ہے۔ تکاثر کا مطلب کثرت کی چاہت سے متعلق سمجھا جاتا ہے، مگر اس روایت میں تفصیلی تفسیر موجود نہیں۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • دینی متن نقل کرتے وقت صحابہ کی احتیاط سامنے آتی ہے۔
  • الہاکم التکاثر کا ذکر کثرت کی چاہت کے مضمون سے جڑا ہے۔
  • مختصر روایت سے غیر موجود تفصیلات نہیں نکالنی چاہییں۔
  • قرآن اور حدیث کے فرق کو سمجھنا علمی امانت ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں