صحیح بخاری حدیث ۶۴۳۴ - نیک لوگوں کے رخصت ہونے کا بیان

نیک لوگوں کے رخصت ہونے کی حدیث اور کردار کی فکر

صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۴۳۴

حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ بَيَانٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ مِرْدَاسٍ الْأَسْلَمِيِّ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَذْهَبُ الصَّالِحُونَ الْأَوَّلُ فَالْأَوَّلُ ، وَيَبْقَى حُفَالَةٌ كَحُفَالَةِ الشَّعِيرِ أَوِ التَّمْرِ ، لَا يُبَالِيهِمُ اللَّهُ بَالَةً " ، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ : يُقَالُ حُفَالَةٌ وَحُثَالَةٌ .

مرداس اسلمی روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”نیک لوگ یکے بعد دیگرے گزر جائیں گے اس کے بعد جَو کہ بھوسے یا کھجور کے کچرے کی طرح کچھ لوگ دنیا میں رہ جائیں گے جن کی اللہ پاک کو کچھ ذرا بھی پروا نہ ہو گی۔“ امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا «حفالة» اور «حثالة‏.‏» دونوں کے ایک معنی ہیں۔

صحیح بخاری حدیث ۶۴۳۴ کا خلاصہ

اس حدیث میں نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ نیک لوگ ایک کے بعد ایک چلے جائیں گے، پھر ایسے لوگ باقی رہ جائیں گے جو جو یا کھجور کے کچرے کی طرح ہوں گے، اللہ ان کی کچھ پروا نہیں کرے گا۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے الفاظ کے معنی بھی بیان کیے کہ حفالة اور حثالة کا مطلب قریب ہے۔ یہ حدیث انسان کو اپنے کردار کے بارے میں سوچنے پر آمادہ کرتی ہے۔ اصل سوال یہ نہیں کہ اچھے لوگ کب گئے، بلکہ یہ ہے کہ ہم اپنے اندر نیکی، سچائی اور دین کی قدر کتنی رکھتے ہیں۔ صالحین کی حدیث ہمیں یہ بتاتی ہے کہ نیک لوگوں کی موجودگی نعمت ہے، اور ان کے جانے کے بعد کردار کی کمزوری بڑھ سکتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نیک لوگوں کی موجودگی معاشرے کے لیے بڑی نعمت ہے۔
  • انسان کو اپنے کردار کو کمزور ہونے سے بچانا چاہیے۔
  • دین کی قدر صرف نام سے نہیں، عمل سے ظاہر ہوتی ہے۔
  • اچھے لوگوں کے جانے سے غفلت بڑھنے کا خطرہ ہوتا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں