صحیح بخاری حدیث ۲۶۶۴ - بلوغت اور ذمہ داری کی عمر

بلوغت کی عمر کی حدیث: پندرہ سال کا عملی معیار

صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۶۶۴

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي نَافِعٌ ، قَالَ : حَدَّثَنِي ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَرَضَهُ يَوْمَ أُحُدٍ وَهُوَ ابْنُ أَرْبَعَ عَشْرَةَ سَنَةً ، فَلَمْ يُجِزْنِي ، ثُمَّ عَرَضَنِي يَوْمَ الْخَنْدَقِ وَأَنَا ابْنُ خَمْسَ عَشْرَةَ سَنَةً ، فَأَجَازَنِي ، قَالَ نَافِعٌ : فَقَدِمْتُ عَلَى عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ وَهُوَ خَلِيفَةٌ ، فَحَدَّثْتُهُ هَذَا الْحَدِيثَ ، فَقَالَ : إِنَّ هَذَا لَحَدٌّ بَيْنَ الصَّغِيرِ وَالْكَبِيرِ ، وَكَتَبَ إِلَى عُمَّالِهِ أَنْ يَفْرِضُوا لِمَنْ بَلَغَ خَمْسَ عَشْرَةَ " .

عبداللہ بن عمر روایت:

´ہم سے عبداللہ بن سعید نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عبیداللہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے نافع نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ` احد کی لڑائی کے موقع پر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے (جنگ پر جانے کے لیے) پیش ہوئے تو انہیں اجازت نہیں ملی، اس وقت ان کی عمر چودہ سال تھی۔ پھر غزوہ خندق کے موقع پر پیش ہوئے تو اجازت مل گئی۔ اس وقت ان کی عمر پندرہ سال تھی۔نافع نے بیان کیا کہ جب میں عمر بن عبدالعزیز کے یہاں ان کی خلافت کے زمانے میں گیا تو میں نے ان سے یہ حدیث بیان کی تو انہوں نے فرمایا کہ چھوٹے اور بڑے کے درمیان (پندرہ سال ہی کی) حد ہے۔ پھر انہوں نے اپنے حاکموں کو لکھا کہ جس بچے کی عمر پندرہ سال کی ہو جائے (اس کا فوجی وظیفہ) بیت المال سے مقرر کر دیں۔

صحیح بخاری حدیث ۲۶۶۴ کا خلاصہ

اس حدیث میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا واقعہ بیان ہوا ہے۔ غزوۂ احد کے موقع پر وہ چودہ سال کے تھے، اس لیے انہیں اجازت نہ ملی۔ پھر غزوۂ خندق کے موقع پر وہ پندرہ سال کے ہوئے تو انہیں اجازت دی گئی۔ اس سے بلوغت کی عمر، ذمہ داری اور عملی اہلیت کے بارے میں ایک اہم نکتہ سامنے آتا ہے۔ روایت میں حضرت نافع نے یہ حدیث عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کو سنائی تو انہوں نے پندرہ سال کو چھوٹے اور بڑے کے درمیان حد سمجھا اور اسی کے مطابق اپنے حکام کو لکھا۔ یہ حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ دینی اور سماجی ذمہ داریوں میں عمر، طاقت اور اہلیت کو دیکھا جاتا ہے۔ ہر کام کے لیے صرف شوق کافی نہیں، مناسب وقت اور صلاحیت بھی ضروری ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • ذمہ داری دیتے وقت عمر اور اہلیت کو دیکھا جا سکتا ہے۔
  • چودہ اور پندرہ سال کے فرق کو روایت میں عملی طور پر بیان کیا گیا ہے۔
  • بڑے کام کے لیے صرف شوق نہیں، مناسب صلاحیت بھی اہم ہے۔
  • حاکم کو فیصلے میں واضح معیار اختیار کرنا چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں