صحیح بخاری حدیث ۲۷۱۷ - ولاء آزاد کرنے والے کے لیے ہے
ولاء کس کا حق ہے؟ بریرہ رضی اللہ عنہا کی حدیث
صحیح بخاری : ۲۷۱۷
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۷۱۷
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَخْبَرَتْهُ ، أَنَّ بَرِيرَةَ جَاءَتْ عَائِشَةَ تَسْتَعِينُهَا فِي كِتَابَتِهَا ، وَلَمْ تَكُنْ قَضَتْ مِنْ كِتَابَتِهَا شَيْئًا ، قَالَتْ لَهَا عَائِشَةُ : ارْجِعِي إِلَى أَهْلِكِ فَإِنْ أَحَبُّوا أَنْ أَقْضِيَ عَنْكِ كِتَابَتَكِ وَيَكُونَ وَلَاؤُكِ لِي ، فَعَلْتُ ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ بَرِيرَةُ إِلَى أَهْلِهَا فَأَبَوْا ، وَقَالُوا : إِنْ شَاءَتْ أَنْ تَحْتَسِبَ عَلَيْكِ ، فَلْتَفْعَلْ وَيَكُونَ لَنَا وَلَاؤُكِ ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ لَهَا " ابْتَاعِي ، فَأَعْتِقِي ، فَإِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ " .
عائشہ روایت:
بریرہ، عائشہ رضی اللہ عنہا کے یہاں اپنی مکاتبت کے بارے میں ان سے مدد لینے کے لیے آئیں، انہوں نے ابھی تک اس معاملے میں (اپنے مالکوں کو) کچھ دیا نہیں تھا۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان سے فرمایا کہ اپنے مالکوں کے یہاں جا کر (ان سے دریافت کرو) اگر وہ یہ صورت پسند کریں کہ تمہاری مکاتبت کی ساری رقم میں ادا کر دوں اور تمہاری ولاء میرے لیے ہو جائے تو میں ایسا کر سکتی ہوں۔بریرہ نے اس کا تذکرہ جب اپنے مالکوں کے سامنے کیا تو انہوں نے انکار کیا اور کہا کہ وہ (عائشہ رضی اللہ عنہا) اگر چاہیں تو یہ کار ثواب تمہارے ساتھ کر سکتی ہیں لیکن ولاء تو ہمارے ہی رہے گی۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ تم انہیں خرید کر آزاد کر دو، ولاء تو بہرحال اسی کی ہوتی ہے جو آزاد کر دے۔
صحیح بخاری حدیث ۲۷۱۷ کا خلاصہ
اس حدیث میں بریرہ رضی اللہ عنہا کا واقعہ ہے۔ وہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس اپنی مکاتبت کے معاملے میں مدد لینے آئیں۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ اگر ان کے مالک اس بات کو پسند کریں کہ مکاتبت کی رقم وہ ادا کر دیں اور ولاء عائشہ رضی اللہ عنہا کے لیے ہو، تو وہ ایسا کریں گی۔ مگر مالکوں نے کہا کہ مدد چاہیں تو کر دیں، ولاء ہمارے لیے رہے گی۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انہیں خرید کر آزاد کر دو، ولاء اسی کے لیے ہے جو آزاد کرے۔ ولاء کی حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ شرط اگر درست حق کے خلاف ہو تو اصل شرعی حق اپنی جگہ رہتا ہے۔ متن کے مطابق ولاء آزاد کرنے والے کا حق ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ولاء اسی کے لیے ہے جو آزاد کرے۔
- بریرہ رضی اللہ عنہا نے مکاتبت میں مدد طلب کی۔
- عائشہ رضی اللہ عنہا نے مدد کی صورت پوچھی۔
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ولاء کا اصل حق واضح فرمایا۔
