صحیح بخاری حدیث ۲۷۱۵ - نماز، زکوٰۃ اور خیرخواہی پر بیعت
نماز، زکوٰۃ اور خیرخواہی کی حدیث: بیعت کا جامع سبق
صحیح بخاری : ۲۷۱۵
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۷۱۵
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي قَيْسُ بْنُ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " بَايَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى : إِقَامِ الصَّلَاةِ ، وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ ، وَالنُّصْحِ لِكُلِّ مُسْلِمٍ " .
جریر بن عبداللہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے نماز قائم کرنے، زکوٰۃ ادا کرنے اور ہر مسلمان کے ساتھ خیر خواہی کرنے کی شرطوں کے ساتھ بیعت کی تھی۔
صحیح بخاری حدیث ۲۷۱۵ کا خلاصہ
اس حدیث میں جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تین باتوں پر بیعت کی: نماز قائم کرنا، زکوٰۃ ادا کرنا، اور ہر مسلمان کے ساتھ خیرخواہی کرنا۔ یہ حدیث بہت آسان انداز میں دین کے تین عملی پہلو سامنے لاتی ہے۔ نماز انسان کے اپنے رب سے تعلق کی بنیاد ہے، زکوٰۃ مال کے حق سے متعلق ہے، اور خیرخواہی مسلمانوں کے باہمی تعلق سے جڑی ہے۔ نماز زکوٰۃ اور خیرخواہی کی حدیث میں کوئی اضافی تفصیل نہیں، اس لیے اصل بات یہی ہے کہ مسلمان اپنی عبادت، مالی ذمہ داری اور لوگوں کے ساتھ بھلائی، تینوں کو سنجیدگی سے لے۔ جریر رضی اللہ عنہ کی بیعت میں یہ تینوں شرطیں صاف طور پر آئی ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نماز قائم کرنا بیعت کی شرطوں میں آیا۔
- زکوٰۃ ادا کرنا مالی ذمہ داری ہے۔
- ہر مسلمان کے ساتھ خیرخواہی کرنا ضروری عمل ہے۔
- دین میں عبادت اور لوگوں کے حقوق دونوں شامل ہیں۔
