صحیح بخاری حدیث ۲۷۱۴ - ہر مسلمان کے ساتھ خیرخواہی
ہر مسلمان کے ساتھ خیرخواہی کی حدیث: بیعت کی ایک شرط
صحیح بخاری : ۲۷۱۴
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۷۱۴
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ جَرِيرًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، يَقُولُ : " بَايَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَاشْتَرَطَ عَلَيَّ وَالنُّصْحِ لِكُلِّ مُسْلِمٍ " .
جریر روایت:
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ہر مسلمان کے ساتھ خیر خواہی کرنے کی شرط پر بیعت کی تھی۔
صحیح بخاری حدیث ۲۷۱۴ کا خلاصہ
اس حدیث میں جریر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے ہر مسلمان کے ساتھ خیرخواہی کرنے کی شرط لی۔ حدیث مختصر ہے، مگر بات بہت صاف ہے۔ مسلمان کا تعلق صرف اپنی ذات تک محدود نہیں رہتا، بلکہ اسے دوسرے مسلمانوں کے لیے بھلائی چاہنی چاہیے۔ ہر مسلمان کے ساتھ خیرخواہی کی حدیث میں کوئی لمبی تفصیل نہیں دی گئی، اس لیے اس کا اصل پیغام یہی ہے کہ مسلمان دوسرے مسلمان کے لیے خیر چاہے، دھوکا، بے رخی یا نقصان کا ارادہ نہ رکھے۔ بیعت جیسے سنجیدہ موقع پر اس شرط کا ذکر اس بات کو مضبوط کرتا ہے کہ خیرخواہی دین کے عمل میں شامل ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ہر مسلمان کے لیے خیر چاہنا دینی ذمہ داری ہے۔
- بیعت میں خیرخواہی کی شرط لی گئی۔
- مسلمان کو دوسروں کے معاملے میں بھلائی کا رویہ رکھنا چاہیے۔
- مختصر حدیث بھی بڑے عملی سبق دے سکتی ہے۔
