صحیح بخاری حدیث ۲۷۷۶ - نبی صلى الله عليه وسلم کا چھوڑا ہوا مال صدقہ
نبی صلى الله عليه وسلم کے مال کی حدیث: خرچ کے بعد باقی مال صدقہ
صحیح بخاری : ۲۷۷۶
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۷۷۶
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا يَقْتَسِمُ وَرَثَتِي دِينَارًا ، وَلَا دِرْهَمًا مَا تَرَكْتُ بَعْدَ نَفَقَةِ نِسَائِي ، وَمَئُونَةِ عَامِلِي فَهُوَ صَدَقَةٌ " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جو آدمی میرے وارث ہیں ‘ وہ روپیہ اشرفی اگر میں چھوڑ جاؤں تو وہ تقسیم نہ کریں ‘ وہ میری بیویوں کا خرچ اور جائیداد کا اہتمام کرنے والے کا خرچ نکالنے کے بعد صدقہ ہے۔“
صحیح بخاری حدیث ۲۷۷۶ کا خلاصہ
یہ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چھوڑے ہوئے مال کے بارے میں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے وارث دینار اور درہم تقسیم نہ کریں۔ جو کچھ میری بیویوں کے خرچ اور میری جائیداد کے کام کرنے والے کے خرچ کے بعد بچے، وہ صدقہ ہے۔ اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مال کے بارے میں ایک خاص حکم بیان فرمایا۔ یہاں گفتگو دینار، درہم، اہل خانہ کے خرچ، عامل کے خرچ اور باقی مال کے صدقہ ہونے تک محدود ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بعد مال جمع ہونے یا تقسیم ہونے کی صورت نہیں رکھی، بلکہ ضروری خرچ کے بعد اسے صدقہ قرار دیا۔ اس میں دنیا سے بے رغبتی اور امت کے لیے خیر کا پہلو صاف دکھائی دیتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی صلى الله عليه وسلم نے اپنے چھوڑے ہوئے مال کے بارے میں صدقہ کا حکم بیان فرمایا۔
- بیویوں اور عامل کے ضروری خرچ کا ذکر پہلے کیا گیا۔
- دینار و درہم کو وراثت میں تقسیم نہ کرنے کی بات حدیث میں آئی ہے۔
- مال کے معاملے میں واضح ہدایت اختلاف سے بچاتی ہے۔
