صحیح بخاری حدیث ۲۷۷۷ - وقف کے متولی کا معروف خرچ
وقف کے متولی کا حق: کھانا جائز، مال جمع کرنا نہیں
صحیح بخاری : ۲۷۷۷
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۷۷۷
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، أَنَّ عُمَرَ " اشْتَرَطَ فِي وَقْفِهِ أَنْ يَأْكُلَ مَنْ وَلِيَهُ ، وَيُؤْكِلَ صَدِيقَهُ غَيْرَ مُتَمَوِّلٍ مَالًا " .
عبداللہ بن عمر روایت:
عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے وقف میں یہ شرط لگائی تھی کہ اس کا متولی اس میں سے کھا سکتا ہے اور اپنے دوست کو کھلا سکتا ہے لیکن وہ دولت نہ جوڑے۔
صحیح بخاری حدیث ۲۷۷۷ کا خلاصہ
یہ حدیث وقف کے متولی کے حق اور حد کو مختصر انداز میں بتاتی ہے۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے وقف میں یہ شرط لگائی تھی کہ جو شخص اس کا متولی ہو، وہ اس میں سے کھا سکتا ہے اور اپنے دوست کو کھلا سکتا ہے، لیکن وہ مال جمع نہ کرے۔ اس سے وقف کے انتظام میں توازن سمجھ آتا ہے۔ متولی پر کام کی ذمہ داری ہوتی ہے، اس لیے معروف اور ضرورت کے مطابق کھانے کی گنجائش رکھی گئی۔ مگر اسی وقف کو ذاتی مال بنانے، جمع کرنے یا اپنے فائدے کا ذریعہ بنانے کی اجازت نہیں دی گئی۔ وقف کی حدیث میں یہ نکتہ بہت اہم ہے کہ امانت سنبھالنے والے کو ضرورت کی رعایت ملتی ہے، لیکن حد سے بڑھنا درست نہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- وقف کا متولی معروف طریقے سے اس میں سے کھا سکتا ہے۔
- متولی دوست کو بھی کھلا سکتا ہے، مگر وقف سے دولت نہ بنائے۔
- وقف کا مال امانت ہے، ذاتی جمع پونجی نہیں۔
- شرطیں واضح ہوں تو وقف کا انتظام بہتر رہتا ہے۔
