صحیح بخاری حدیث ۲۷۷۳ - خیبر کے مال کو صدقہ کرنا
خیبر کا مال صدقہ: فقراء، مساکین اور رشتہ داروں کا حق
صحیح بخاری : ۲۷۷۳
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۷۷۳
حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، وَجَدَ مَالًا بِخَيْبَرَ ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ ، قَالَ : " إِنْ شِئْتَ تَصَدَّقْتَ بِهَا ، فَتَصَدَّقَ بِهَا فِي الْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ ، وَذِي الْقُرْبَى ، وَالضَّيْفِ " .
عبداللہ بن عمر روایت:
عمر رضی اللہ عنہ کو خیبر میں ایک جائیداد ملی تو آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر اس کے متعلق خبر دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر چاہو تو اسے صدقہ کر دو۔ چنانچہ آپ نے فقراء ‘ مساکین ‘ رشتہ داروں اور مہمانوں کے لیے اسے صدقہ کر دیا۔
صحیح بخاری حدیث ۲۷۷۳ کا خلاصہ
یہ حدیث عمر رضی اللہ عنہ کے خیبر کے مال کو صدقہ کرنے کا مختصر مگر واضح بیان ہے۔ انہیں خیبر میں ایک جائیداد ملی تو وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اس کے بارے میں بتایا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر چاہو تو اسے صدقہ کر دو۔ عمر رضی اللہ عنہ نے اسے فقراء، مساکین، رشتہ داروں اور مہمانوں کے لیے صدقہ کر دیا۔ اس حدیث میں صدقہ، وقف اور سماجی مدد کا پہلو نمایاں ہے۔ مال کو صرف اپنے فائدے کے لیے نہیں رکھا گیا بلکہ ضرورت مندوں، قریبی لوگوں اور آنے والے مہمانوں تک پہنچایا گیا۔ یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ قیمتی جائیداد کے بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے رہنمائی لی گئی، پھر اس پر عمل کیا گیا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- قیمتی مال کو ضرورت مندوں کے لیے صدقہ کیا جا سکتا ہے۔
- فقراء، مساکین، رشتہ دار اور مہمان صدقہ کے اہم مصرف ہیں۔
- اچھے کام سے پہلے رہنمائی لینا بہتر ہے۔
- صدقہ میں اپنے قریبی لوگوں کو بھی شامل کیا جا سکتا ہے۔
