صحیح بخاری حدیث ۲۷۷۴ - مسجد کی تعمیر کے لیے باغ
مسجد نبوی کی تعمیر: بنو نجار کا باغ اور خالص نیت
صحیح بخاری : ۲۷۷۴
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۷۷۴
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي ، حَدَّثَنَا أَبُو التَّيَّاحِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ " لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ أَمَرَ بِبِنَاءِ الْمَسْجِدِ ، وَقَالَ : يَا بَنِي النَّجَّارِ ثَامِنُونِي بِحَائِطِكُمْ هَذَا ، قَالُوا : لَا ، وَاللَّهِ لَا نَطْلُبُ ثَمَنَهُ إِلَّا إِلَى اللَّهِ " .
انس بن مالک روایت:
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد بنانے کے لیے حکم دیا اور فرمایا اے بنو نجار! اپنے باغ کی مجھ سے قیمت لے لو۔ انہوں نے کہا کہ نہیں اللہ کی قسم! ہم تو اس کی قیمت صرف اللہ سے مانگتے ہیں۔
صحیح بخاری حدیث ۲۷۷۴ کا خلاصہ
یہ حدیث مدینہ میں مسجد کی تعمیر کے واقعے سے متعلق ہے۔ انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو آپ نے مسجد بنانے کا حکم دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو نجار سے فرمایا کہ اپنے اس باغ کی قیمت مجھ سے لے لو۔ انہوں نے جواب دیا کہ نہیں، اللہ کی قسم، ہم اس کی قیمت صرف اللہ سے چاہتے ہیں۔ اس حدیث میں مسجد کے لیے زمین دینے کا جذبہ، دینی کام میں تعاون، اور اجر اللہ سے لینے کی نیت صاف نظر آتی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قیمت کی بات فرمائی، مگر بنو نجار نے اسے دنیاوی معاملہ نہ بنایا۔ انہوں نے اپنے باغ کو اللہ کے کام کے لیے پیش کیا، اور امید اللہ سے رکھی۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مسجد کی تعمیر دینی خدمت کا ایک اہم کام ہے۔
- دینی کام میں دنیاوی قیمت کے بجائے اللہ سے اجر چاہنا اچھا جذبہ ہے۔
- بنو نجار نے اپنے باغ کے ذریعے مسجد کے کام میں حصہ لیا۔
- نیک عمل میں نیت کی صفائی خاص اہمیت رکھتی ہے۔
