صحیح بخاری حدیث ۲۷۷۱ - مسجد کے لیے زمین دینا

مسجد کی تعمیر کے لیے زمین: بنو نجار کا اللہ سے اجر چاہنا

صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۷۷۱

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " أَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِبِنَاءِ الْمَسْجِدِ ، فَقَالَ : يَا بَنِي النَّجَّارِ ثَامِنُونِي بِحَائِطِكُمْ هَذَا ، قَالُوا : لَا ، وَاللَّهِ لَا نَطْلُبُ ثَمَنَهُ إِلَّا إِلَى اللَّهِ " .

انس روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (مدینہ میں) مسجد بنانے کا حکم دیا اور بنی نجار سے فرمایا تم اپنے اس باغ کا مجھ سے مول کر لو۔ انہوں نے کہا کہ ہرگز نہیں اللہ کی قسم ہم تو اللہ ہی سے اس کا مول لیں گے۔

صحیح بخاری حدیث ۲۷۷۱ کا خلاصہ

یہ حدیث مسجد کی تعمیر اور اللہ کے لیے مال پیش کرنے کے جذبے کو بیان کرتی ہے۔ انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں مسجد بنانے کا حکم دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو نجار سے فرمایا کہ اپنے اس باغ کی قیمت مجھ سے طے کر لو۔ انہوں نے جواب دیا کہ ہرگز نہیں، اللہ کی قسم ہم اس کی قیمت صرف اللہ سے لیں گے۔ اس حدیث میں بنو نجار کا عمل صاف ہے: انہوں نے اپنے باغ کو مسجد کے کام کے لیے پیش کیا اور دنیاوی قیمت نہ لی۔ یہاں اصل بات یہ ہے کہ اللہ کے گھر کی تعمیر میں حصہ لینا اور اجر اللہ سے چاہنا ایک پاکیزہ نیت کا کام ہے۔ حدیث میں یہی واقعہ بیان ہوا ہے، اس لیے اس سے بڑھ کر کوئی دعویٰ نہیں کیا جانا چاہیے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • مسجد کی تعمیر میں مال یا زمین کے ذریعے حصہ لیا جا سکتا ہے۔
  • نیک کام میں اجر اللہ سے چاہنے کی نیت بہت اہم ہے۔
  • بنو نجار نے باغ کی قیمت لینے کے بجائے اللہ سے بدلہ چاہا۔
  • دینی کاموں میں صاف نیت عمل کو خوبصورت بناتی ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں