صحیح بخاری حدیث ۲۷۷۰ - میت کی طرف سے صدقہ
میت کی طرف سے صدقہ: والدہ کے لیے خیرات کی حدیث
صحیح بخاری : ۲۷۷۰
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۷۷۰
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ ، أَخْبَرَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، أَنَّ رَجُلًا ، قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ أُمَّهُ تُوُفِّيَتْ ، أَيَنْفَعُهَا إِنْ تَصَدَّقْتُ عَنْهَا ؟ قَالَ : " نَعَمْ ، قَالَ : فَإِنَّ لِي مِخْرَافًا وَأُشْهِدُكَ أَنِّي قَدْ تَصَدَّقْتُ بِهِ عَنْهَا " .
ابن عباس روایت:
ایک صحابی سعد بن عبادہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ ان کی ماں کا انتقال ہو گیا ہے۔ کیا اگر وہ ان کی طرف سے خیرات کریں تو انہیں اس کا فائدہ پہنچے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا کہ ہاں۔ اس پر ان صحابی نے کہا کہ میرا ایک پُر میوہ باغ ہے اور میں آپ کو گواہ بناتا ہوں کہ میں نے وہ ان کی طرف سے صدقہ کر دیا۔
صحیح بخاری حدیث ۲۷۷۰ کا خلاصہ
یہ حدیث میت کی طرف سے صدقہ کرنے کے بارے میں ہے۔ ایک صحابی، سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور عرض کیا کہ ان کی والدہ کا انتقال ہو گیا ہے۔ انہوں نے پوچھا کہ اگر میں ان کی طرف سے خیرات کروں تو کیا انہیں فائدہ پہنچے گا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا: ہاں۔ اس کے بعد انہوں نے کہا کہ میرا ایک پھل دار باغ ہے، اور میں آپ کو گواہ بناتا ہوں کہ میں نے اسے اپنی والدہ کی طرف سے صدقہ کر دیا۔ حدیث کا پیغام صاف ہے کہ اولاد اپنے فوت شدہ والدین کے لیے صدقہ کر سکتی ہے۔ یہاں خاص طور پر ماں کے لیے صدقہ کا ذکر ہے، اور صحابی نے اپنی ملکیت میں موجود باغ کو خیر کے کام کے لیے پیش کیا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- میت کی طرف سے صدقہ کرنا نفع بخش عمل کے طور پر بیان ہوا ہے۔
- اولاد اپنے والدین کے لیے خیرات کر سکتی ہے۔
- صدقہ میں قیمتی اور پھل دینے والی چیز بھی دی جا سکتی ہے۔
- اچھے کام میں گواہی اور وضاحت معاملے کو مضبوط بناتی ہے۔
