صحیح بخاری حدیث ۲۷۷۹ - باغ کی قیمت اللہ سے
باغ کی قیمت اللہ سے: مسجد کے لیے خالص نیت کی حدیث
صحیح بخاری : ۲۷۷۹
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۷۷۹
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا بَنِي النَّجَّارِ ثَامِنُونِي بِحَائِطِكُمْ ، قَالُوا : لَا نَطْلُبُ ثَمَنَهُ إِلَّا إِلَى اللَّهِ " .
انس روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا ”اے بنو نجار! تم اپنے باغ کی قیمت مجھ سے وصول کر لو تو انہوں نے عرض کیا کہ ہم اس کی قیمت اللہ تعالیٰ کے سوا کسی سے نہیں چاہتے۔“
صحیح بخاری حدیث ۲۷۷۹ کا خلاصہ
یہ حدیث بنو نجار کے اس جذبے کو بیان کرتی ہے جو انہوں نے مسجد کے لیے اپنے باغ کے معاملے میں دکھایا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے بنو نجار، اپنے باغ کی قیمت مجھ سے لے لو۔ انہوں نے جواب دیا کہ ہم اس کی قیمت اللہ تعالیٰ کے سوا کسی سے نہیں چاہتے۔ یہ جملہ بہت سادہ ہے مگر اس میں نیت کی بڑی صفائی ہے۔ انہوں نے اپنا باغ مسجد کے کام کے لیے دیا اور دنیاوی معاوضہ نہ چاہا۔ حدیث کا اصل پیغام یہی ہے کہ کبھی آدمی اپنے مال سے دینی کام میں حصہ لیتا ہے اور بدلہ صرف اللہ سے چاہتا ہے۔ یہاں کوئی لمبی بحث نہیں، بس ایک روشن عمل ہے: مال پیش کیا، قیمت نہ لی، اجر اللہ پر چھوڑ دیا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مسجد کے لیے مال یا زمین دینا دینی خدمت ہے۔
- نیک کام میں بدلہ اللہ سے چاہنے کی نیت واضح ہونی چاہیے۔
- بنو نجار نے باغ کی قیمت لینے سے انکار کیا۔
- دینی کام میں اخلاص عمل کو قیمتی بناتا ہے۔
