صحیح بخاری حدیث ۲۷۸۰ - سفر میں گواہی اور امانت
سفر میں گواہی کی حدیث: امانت اور ترکہ کے معاملے میں احتیاط
صحیح بخاری : ۲۷۸۰
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۷۸۰
2 وقَالَ لِي عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي الْقَاسِمِ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : " خَرَجَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي سَهْمٍ مَعَ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ ، وَعَدِيِّ بْنِ بَدَّاءٍ ، فَمَاتَ السَّهْمِيُّ بِأَرْضٍ لَيْسَ بِهَا مُسْلِمٌ ، فَلَمَّا قَدِمَا بِتَرِكَتِهِ فَقَدُوا جَامًا مِنْ فِضَّةٍ مُخَوَّصًا مِنْ ذَهَبٍ ، فَأَحْلَفَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ وُجِدَ الْجَامُ بِمَكَّةَ ، فَقَالُوا : ابْتَعْنَاهُ مِنْ تَمِيمٍ ، وَعَدِيٍّ ، فَقَامَ رَجُلَانِ مِنْ أَوْلِيَائِهِ ، فَحَلَفَا لَشَهَادَتُنَا أَحَقُّ مِنْ شَهَادَتِهِمَا ، وَإِنَّ الْجَامَ لِصَاحِبِهِمْ ، قَالَ : وَفِيهِمْ نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا شَهَادَةُ بَيْنِكُمْ إِذَا حَضَرَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ سورة المائدة آية 106 " .
عبداللہ بن عباس روایت:
بنی سہم کا ایک شخص تمیم داری اور عدی بن بداء کے ساتھ سفر کو نکلا ‘ وہ ایسے ملک میں جا کر مر گیا جہاں کوئی مسلمان نہ تھا۔ یہ دونوں شخص اس کا متروکہ مال لے کر مدینہ واپس آئے۔ اس کے اسباب میں چاندی کا ایک گلاس گم تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کو قسم کھانے کا حکم فرمایا (انہوں نے قسم کھا لی) پھر ایسا ہوا کہ وہ گلاس مکہ میں ملا، انہوں نے کہا ہم نے یہ گلاس تمیم اور عدی سے خریدا ہے۔اس وقت میت کے دو عزیز (عمرو بن العاص اور مطلب کھڑے ہوئے اور انہوں نے قسم کھائی کہ یہ ہماری گواہی تمیم اور عدی کی گواہی سے زیادہ معتبر ہے ‘ یہ گلاس میت ہی کا ہے۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا ان ہی کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی «يا أيها الذين آمنوا شهادة بينكم» آخر آیت تک۔
صحیح بخاری حدیث ۲۷۸۰ کا خلاصہ
یہ حدیث سفر، گواہی اور امانت کے معاملے کو بیان کرتی ہے۔ بنی سہم کا ایک شخص تمیم داری اور عدی بن بداء کے ساتھ سفر پر نکلا اور ایسے علاقے میں فوت ہو گیا جہاں کوئی مسلمان نہ تھا۔ دونوں اس کا ترکہ لے کر مدینہ آئے، مگر سامان میں چاندی کا ایک گلاس غائب تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں سے قسم لی۔ بعد میں وہ گلاس مکہ میں ملا اور لوگوں نے کہا کہ انہوں نے اسے تمیم اور عدی سے خریدا ہے۔ پھر میت کے دو قریبی افراد کھڑے ہوئے اور قسم کھائی کہ ہماری گواہی ان کی گواہی سے زیادہ حق دار ہے اور گلاس ہمارے ساتھی کا ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بتایا کہ اسی بارے میں آیت نازل ہوئی۔ حدیث امانت، گواہی اور میت کے مال میں احتیاط کا سبق دیتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- سفر میں کسی کے مال کی امانت سنبھالنا بڑی ذمہ داری ہے۔
- ترکہ کے معاملے میں گواہی اور قسم کو سنجیدگی سے لیا گیا۔
- غائب سامان ملنے پر حق دار کی بات کو نظر انداز نہیں کیا گیا۔
- میت کے مال میں امانت اور سچائی ضروری ہیں۔
