صحیح بخاری حدیث ۲۸۱ - غسل جنابت کا مسنون طریقہ
غسل جنابت کا مسنون طریقہ: صفائی، ترتیب اور پردہ
صحیح بخاری : ۲۸۱
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۸۱
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ كُرَيْبٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ مَيْمُونَةَ ، قَالَتْ : " سَتَرْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَغْتَسِلُ مِنَ الْجَنَابَةِ فَغَسَلَ يَدَيْهِ ، ثُمَّ صَبَّ بِيَمِينِهِ عَلَى شِمَالِهِ فَغَسَلَ فَرْجَهُ وَمَا أَصَابَهُ ، ثُمَّ مَسَحَ بِيَدِهِ عَلَى الْحَائِطِ أَوِ الْأَرْضِ ، ثُمَّ تَوَضَّأَ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ غَيْرَ رِجْلَيْهِ ، ثُمَّ أَفَاضَ عَلَى جَسَدِهِ الْمَاءَ ، ثُمَّ تَنَحَّى فَغَسَلَ قَدَمَيْهِ " ، تَابَعَهُ أَبُو عَوَانَةَ ، وَابْنُ فُضَيْلٍ فِي السَّتْرِ .
میمونہ روایت:
جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم غسل جنابت فرما رہے تھے میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا پردہ کیا تھا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے اپنے ہاتھ دھوئے، پھر داہنے ہاتھ سے بائیں پر پانی بہایا اور شرمگاہ دھوئی اور جو کچھ اس میں لگ گیا تھا اسے دھویا پھر ہاتھ کو زمین یا دیوار پر رگڑ کر (دھویا) پھر نماز کی طرح وضو کیا۔ پاؤں کے علاوہ۔ پھر پانی اپنے سارے بدن پر بہایا اور اس جگہ سے ہٹ کر دونوں قدموں کو دھویا۔اس حدیث میں ابوعوانہ اور محمد بن فضیل نے بھی پردے کا ذکر کیا ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۲۸۱ کا خلاصہ
اس حدیث میں ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا نے غسل جنابت کا مسنون طریقہ بیان کیا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غسل میں صفائی کی واضح ترتیب اختیار فرمائی۔ پہلے ہاتھ دھوئے، پھر دائیں ہاتھ سے بائیں پر پانی ڈال کر شرمگاہ دھوئی، پھر ہاتھ کو زمین یا دیوار پر رگڑ کر صاف کیا۔ اس کے بعد نماز جیسا وضو کیا، مگر پاؤں آخر میں دھوئے۔ پھر پورے جسم پر پانی بہایا اور جگہ بدل کر دونوں قدم دھوئے۔ یہ حدیث غسل جنابت کا طریقہ، پاکی کا اہتمام، اور پردہ کے ساتھ غسل کرنے کی تعلیم دیتی ہے۔ اس میں سادگی بھی ہے اور صفائی کا مکمل خیال بھی۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- غسل جنابت میں جسمانی صفائی کے ساتھ ترتیب کا خیال رکھا گیا ہے۔
- شرمگاہ دھونے کے بعد ہاتھ کو اچھی طرح صاف کرنا چاہیے۔
- غسل میں نماز جیسا وضو کرنا مسنون طریقے میں شامل ہے۔
- پردہ اور حیا کا خیال غسل کے وقت بھی رکھا گیا ہے۔
