صحیح بخاری حدیث ۲۸۲ - عورت کے احتلام پر غسل

عورت کے احتلام پر غسل: جب پانی نظر آئے

صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۸۲

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : جَاءَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ امْرَأَةُ أَبِي طَلْحَةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ اللَّهَ لَا يَسْتَحْيِي مِنَ الْحَقِّ ، هَلْ عَلَى الْمَرْأَةِ مِنْ غُسْلٍ إِذَا هِيَ احْتَلَمَتْ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَعَمْ ، إِذَا رَأَتِ الْمَاءَ " .

ام سلمہ روایت:

ام سلیم ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کی عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور کہا کہ اللہ تعالیٰ حق سے حیاء نہیں کرتا۔ کیا عورت پر بھی جب کہ اسے احتلام ہو غسل واجب ہو جاتا ہے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، ہاں اگر (اپنی منی کا) پانی دیکھے (تو اسے بھی غسل کرنا ہو گا)۔

صحیح بخاری حدیث ۲۸۲ کا خلاصہ

اس حدیث میں ام سلیم رضی اللہ عنہا نے ایک اہم مسئلہ پوچھا کہ اگر عورت کو احتلام ہو تو کیا اس پر غسل لازم ہے؟ سوال شروع کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اللہ حق بات سے حیا نہیں کرتا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا کہ ہاں، جب وہ پانی دیکھے۔ اس حدیث کا مرکزی پیغام یہ ہے کہ دینی مسئلہ صاف طور پر پوچھنا درست ہے، خاص طور پر جب بات پاکی اور عبادت سے جڑی ہو۔ عورت کا احتلام اور غسل کا حکم اس روایت میں بہت سادہ انداز سے بیان ہوا ہے۔ صرف خواب کافی نہیں، بلکہ حدیث کے الفاظ کے مطابق پانی دیکھنے پر غسل کا حکم آیا ہے۔ یہ حدیث دینی علم، حیا اور طہارت کے مسئلے کو متوازن انداز میں سمجھاتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • دینی مسئلہ پوچھنے میں شرم رکاوٹ نہیں بننی چاہیے۔
  • عورت کو احتلام کے بعد پانی نظر آئے تو غسل کرنا ہوگا۔
  • پاکی کے احکام سیکھنا مرد اور عورت دونوں کے لیے ضروری ہے۔
  • جواب میں اصل شرط واضح کر دی گئی کہ پانی دیکھا جائے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں