صحیح بخاری حدیث ۲۸۱۱ - اللہ کی راہ میں غبار آلود قدم

اللہ کے راستے میں غبار آلود قدم کی فضیلت

صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۸۱۱

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُبَارَكِ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، أَخْبَرَنَا عَبَايَةُ بْنِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبُو عَبْسٍ هُوَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ جَبْرٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَا اغْبَرَّتْ قَدَمَا عَبْدٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، فَتَمَسَّهُ النَّارُ " .

ابوعبس روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جس بندے کے بھی قدم اللہ کے راستے میں غبار آلود ہو گئے ‘ انہیں (جہنم کی) آگ چھوئے؟ (یہ نا ممکن ہے)۔“

صحیح بخاری حدیث ۲۸۱۱ کا خلاصہ

اس حدیث میں اللہ کے راستے میں نکلنے والے بندے کے قدموں کا ذکر ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس بندے کے قدم اللہ کے راستے میں غبار آلود ہو جائیں، انہیں آگ نہیں چھوئے گی۔ حدیث کے الفاظ مختصر ہیں مگر معنی بہت مؤثر ہیں۔ اس میں اللہ کی راہ میں چلنے، تکلیف اٹھانے، اور محنت کرنے کی قدر بیان ہوئی ہے۔ اصل لفظ فی سبیل اللہ ہے، اس لیے بات اسی دائرے میں رکھی جائے گی۔ اس حدیث کو شہادت، جہاد فی سبیل اللہ، اللہ کی راہ میں قدم، اور جہنم سے حفاظت جیسے سرچ الفاظ سے سمجھا جا سکتا ہے۔ متن میں یہ نہیں بتایا گیا کہ ہر غبار آلود قدم مراد ہے، بلکہ خاص طور پر اللہ کے راستے میں غبار آلود ہونا بیان ہوا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • اللہ کے راستے کی محنت اللہ کے ہاں قیمتی ہے۔
  • حدیث میں خاص طور پر فی سبیل اللہ کا ذکر ہے۔
  • اللہ کی راہ میں اٹھنے والے قدم بھی اجر کا سبب بن سکتے ہیں۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں