صحیح بخاری حدیث ۲۸۱۲ - عمار رضی اللہ عنہ اور باغی جماعت

عمار رضی اللہ عنہ کی حدیث: وہ اللہ کی طرف بلائیں گے

صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۸۱۲

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ قَالَ لَهُ ، وَلِعَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ : ائْتِيَا أَبَا سَعِيدٍفَاسْمَعَا مِنْ حَدِيثِهِ فَأَتَيْنَاهُ ، وَهُوَ وَأَخُوهُ فِي حَائِطٍ لَهُمَا يَسْقِيَانِهِ فَلَمَّا رَآنَا جَاءَ فَاحْتَبَى وَجَلَسَ ، فَقَالَ : كُنَّا نَنْقُلُ لَبِنَ الْمَسْجِدِ لَبِنَةً لَبِنَةً ، وَكَانَ عَمَّارٌ يَنْقُلُ لَبِنَتَيْنِ لَبِنَتَيْنِ ، فمر بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَمَسَحَ عَنْ رَأْسِهِ الْغُبَارَ ، وَقَالَ : " وَيْحَ عَمَّارٍ تَقْتُلُهُ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ عَمَّارٌ يَدْعُوهُمْ إِلَى اللَّهِ ، وَيَدْعُونَهُ إِلَى النَّارِ " .

عکرمہ روایت:

ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ان سے اور (اپنے صاحبزادے) علی بن عبداللہ سے فرمایا تم دونوں ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی خدمت میں جاؤ اور ان سے احادیث نبوی سنو۔ چنانچہ ہم حاضر ہوئے ‘ اس وقت ابوسعید رضی اللہ عنہ اپنے (رضاعی) بھائی کے ساتھ باغ میں تھے اور باغ کو پانی دے رہے تھے ‘ جب آپ نے ہمیں دیکھا تو (ہمارے پاس) تشریف لائے اور (چادر اوڑھ کر) گوٹ مار کر بیٹھ گئے ‘ اس کے بعد بیان فرمایا ہم مسجد نبوی کی اینٹیں (ہجرت نبوی کے بعد تعمیر مسجد کیلئے) ایک ایک کر کے ڈھو رہے تھے لیکن عمار رضی اللہ عنہ دو دو اینٹیں لا رہے تھے ‘ اتنے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ادھر سے گزرے اور ان کے سر سے غبار کو صاف کیا پھر فرمایا افسوس! عمار کو ایک باغی جماعت مارے گی ‘ یہ تو انہیں اللہ کی (اطاعت کی) طرف دعوت دے رہا ہو گا لیکن وہ اسے جہنم کی طرف بلا رہے ہوں گے۔

صحیح بخاری حدیث ۲۸۱۲ کا خلاصہ

اس حدیث میں مسجد نبوی کی تعمیر کا ایک واقعہ آیا ہے۔ صحابہ ایک ایک اینٹ اٹھا رہے تھے، مگر عمار رضی اللہ عنہ دو دو اینٹیں لا رہے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس سے گزرے، ان کے سر سے غبار صاف کیا اور فرمایا: افسوس عمار، انہیں ایک باغی جماعت قتل کرے گی۔ عمار انہیں اللہ کی طرف دعوت دے رہے ہوں گے، اور وہ انہیں آگ کی طرف بلائیں گے۔ اس حدیث کا موضوع عمار رضی اللہ عنہ، حق کی دعوت، باغی جماعت، اور اللہ کی طرف بلانا ہے۔ متن میں مسجد کی تعمیر، عمار کی محنت، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خبر صاف بیان ہوئی ہے۔ اس لیے وضاحت بھی اسی واقعے تک محدود ہے، بغیر غیر ضروری تاریخی تفصیل کے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • عمار رضی اللہ عنہ مسجد کی تعمیر میں زیادہ محنت کر رہے تھے۔
  • نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عمار رضی اللہ عنہ کے بارے میں ایک خبر دی۔
  • حق کی دعوت اور آگ کی طرف بلانے میں فرق حدیث میں صاف بیان ہوا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں