صحیح بخاری حدیث ۲۸۱۳ - خندق کے بعد بنو قریظہ کی طرف روانگی
غزوہ خندق کے بعد بنو قریظہ کی طرف جانے کی حدیث
صحیح بخاری : ۲۸۱۳
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۸۱۳
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَامٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا رَجَعَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ وَوَضَعَ السِّلَاحَ وَاغْتَسَلَ فَأَتَاهُ جِبْرِيلُ وَقَدْ عَصَبَ رَأْسَهُ الْغُبَارُ ، فَقَالَ : " وَضَعْتَ السِّلَاحَ فَوَاللَّهِ مَا وَضَعْتُهُ ، فَقَالَ : رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَيْنَ ؟ قَالَ : هَا هُنَا وَأَوْمَأَ إِلَى بَنِي قُرَيْظَةَ ، قَالَتْ : فَخَرَجَ إِلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
عائشہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب جنگ خندق سے (فارغ ہو کر) واپس آئے اور ہتھیار رکھ کر غسل کرنا چاہا تو جبرائیل علیہ السلام آئے ‘ ان کا سر غبار سے اٹا ہوا تھا۔ جبرائیل علیہ السلام نے کہا آپ نے ہتھیار اتار دیئے ‘ اللہ کی قسم میں نے تو ابھی تک ہتھیار نہیں اتارے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا تو پھر اب کہاں کا ارادہ ہے؟ انہوں نے فرمایا ادھر اور بنو قریظہ کی طرف اشارہ کیا۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو قریظہ کے خلاف لشکر کشی کی۔
صحیح بخاری حدیث ۲۸۱۳ کا خلاصہ
اس حدیث میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خندق سے واپس آئے، ہتھیار رکھے اور غسل کا ارادہ کیا۔ اسی وقت جبرائیل علیہ السلام آئے، ان کے سر پر غبار تھا۔ انہوں نے کہا کہ آپ نے ہتھیار رکھ دیے؟ اللہ کی قسم، میں نے ابھی ہتھیار نہیں رکھے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ پھر کہاں جانا ہے؟ جبرائیل علیہ السلام نے بنو قریظہ کی طرف اشارہ کیا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی طرف نکلے۔ اس حدیث کا موضوع اطاعت، جنگ خندق، جبرائیل علیہ السلام، اور بنو قریظہ ہے۔ متن سے یہی سمجھ آتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو وحی کے حکم کے بعد فوراً عمل کی طرف توجہ ہوئی۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی صلی اللہ علیہ وسلم وحی کے حکم پر عمل کرتے تھے۔
- خندق کے بعد بھی ایک نیا حکم آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم روانہ ہوئے۔
- جبرائیل علیہ السلام کا آنا اس واقعے کا اہم حصہ ہے۔
