صحیح بخاری حدیث ۲۸۲۷ - خیبر، غنیمت اور شہادت

خیبر کے بعد غنیمت کا حصہ: شہادت، ماضی اور اللہ کا فیصلہ

صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۸۲۷

حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَنْبَسَةُ بنُ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بِخَيْبَرَ بَعْدَ مَا افْتَتَحُوهَا ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَسْهِمْ لِي ، فَقَالَ : بَعْضُ بَنِي سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ لَا تُسْهِمْ لَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : هَذَا قَاتِلُ ابْنِ قَوْقَلٍ ، فَقَالَ ابْنُ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ : وَاعَجَبًا لِوَبْرٍ تَدَلَّى عَلَيْنَا مِنْ قَدُومِ ضَأْنٍ يَنْعَى عَلَيَّ قَتْلَ رَجُلٍ مُسْلِمٍ أَكْرَمَهُ اللَّهُ عَلَى يَدَيَّ ، وَلَمْ يُهِنِّي عَلَى يَدَيْهِ ، قَالَ : فَلَا أَدْرِي أَسْهَمَ لَهُ أَمْ لَمْ يُسْهِمْ لَهُ " ، قَالَ سُفْيَانُ : وَحَدَّثَنِيهِ السَّعِيدِيُّ ، عَنْ جَدِّهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ :السَّعِيدِيُّ هُوَ عَمْرُو بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ .

ابوہریرہ روایت:

میں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم خیبر میں ٹھہرے ہوئے تھے اور خیبر فتح ہو چکا تھا، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! میرا بھی (مال غنیمت میں) حصہ لگائیے۔ سعید بن العاص کے ایک لڑکے (ابان بن سعید رضی اللہ عنہ) نے کہا یا رسول اللہ! ان کا حصہ نہ لگائیے۔ اس پر ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بولے کہ یہ شخص تو ابن قوتل (نعمان بن مالک رضی اللہ عنہ) کا قاتل ہے۔ابان بن سعید رضی اللہ عنہ نے کہا کتنی عجیب بات ہے کہ یہ جانور (یعنی ابوہریرہ ابھی تو پہاڑ کی چوٹی سے بکریاں چراتے چراتے یہاں آ گیا ہے اور ایک مسلمان کے قتل کا مجھ پر الزام لگاتا ہے۔ اس کو یہ خبر نہیں کہ جسے اللہ تعالیٰ نے میرے ہاتھوں سے (شہادت) عزت دی اور مجھے اس کے ہاتھوں سے ذلیل ہونے سے بچا لیا (اگر اس وقت میں مارا جاتا) تو دوزخی ہوتا ‘ عنبسہ نے بیان کیا کہ اب مجھے یہ نہیں معلوم کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا بھی حصہ لگایا یا نہیں۔سفیان نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھ سے سعیدی نے اپنے دادا کے واسطے سے بیان کیا اور انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے۔ ابوعبداللہ (امام بخاری رحمہ اللہ) نے کہا کہ سعیدی سے مراد عمرو بن یحییٰ بن سعید بن عمرو بن سعید بن عاص ہیں۔

صحیح بخاری حدیث ۲۸۲۷ کا خلاصہ

اس حدیث کا مرکزی موضوع غنیمت اور شہادت ہے۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ خیبر کی فتح کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے اور عرض کیا کہ میرا بھی حصہ مقرر فرمائیے۔ ایک شخص نے کہا کہ ان کا حصہ نہ لگائیے۔ پھر ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یہ ابن قوقل کے قاتل ہیں۔ جواب میں اس شخص نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے جس مسلمان کو میرے ہاتھوں عزت دی، اور مجھے اس کے ہاتھوں ذلیل ہونے سے بچایا۔ روایت کے آخر میں راوی کہتے ہیں کہ انہیں معلوم نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا حصہ لگایا یا نہیں۔ اس روایت میں خیبر، مال غنیمت، شہادت اور پچھلے حالات کا ذکر ہے، مگر فیصلہ والی بات واضح طور پر نقل نہیں کی گئی۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • روایت میں غنیمت کے حصے کے بارے میں سوال کا ذکر ہے۔
  • راوی نے جہاں بات معلوم نہیں تھی، وہاں صاف کہہ دیا کہ مجھے نہیں معلوم۔
  • شہادت کو اللہ کی طرف سے عزت کے طور پر بیان کیا گیا۔
  • دین کی روایت میں غیر معلوم بات کو یقینی بنا کر نہیں کہنا چاہیے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں