صحیح بخاری حدیث ۲۸۲۸ - ابو طلحہ کے روزے اور جہاد
ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کے روزے: جہاد اور عبادت میں ترجیح
صحیح بخاری : ۲۸۲۸
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۸۲۸
حَدَّثَنَا آدَمُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " كَانَ أَبُو طَلْحَةَ لَا يَصُومُ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَجْلِ الْغَزْوِ ، فَلَمَّا قُبِضَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ أَرَهُ مُفْطِرًا إِلَّا يَوْمَ فِطْرٍ أَوْ أَضْحَى " .
انس بن مالک روایت:
ابوطلحہ زید بن سہیل رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں جہاد میں شرکت کے خیال سے (نفلی روزے نہیں رکھتے تھے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد پھر میں نے انہیں عیدالفطر اور عید الاضحی کے سوا روزے کے بغیر نہیں دیکھا۔
صحیح بخاری حدیث ۲۸۲۸ کا خلاصہ
اس حدیث کا مرکزی موضوع روزہ اور جہاد ہے۔ انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ابو طلحہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں جہاد میں شرکت کے خیال سے نفلی روزہ نہیں رکھتے تھے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد انس رضی اللہ عنہ نے انہیں عیدالفطر اور عید الاضحی کے سوا روزے کے بغیر نہیں دیکھا۔ اس روایت میں یہ بات صاف ہے کہ ابو طلحہ رضی اللہ عنہ اپنی حالت اور وقت کے تقاضے کو دیکھتے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں غزوہ کے لیے طاقت بچانے کا خیال تھا، پھر بعد میں روزے کی پابندی نظر آتی ہے۔ یہاں نفلی روزہ، جہاد کی تیاری اور عبادت کی مسلسل رغبت کا سبق ملتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نفلی عبادت میں حالات اور ضرورت کو سمجھنا بھی اہم ہے۔
- ابو طلحہ رضی اللہ عنہ جہاد کے خیال سے روزہ ترک کرتے تھے۔
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد وہ عیدین کے سوا روزہ چھوڑتے دکھائی نہیں دیے۔
- عبادت میں دوام اور سنجیدگی صحابہ کے عمل سے معلوم ہوتی ہے۔
