صحیح بخاری حدیث ۲۸۴۳ - غازی کی مدد کا اجر
غازی کی مدد کی حدیث: سامان دینا بھی نیکی کا بڑا کام
صحیح بخاری : ۲۸۴۳
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۸۴۳
حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي بُسْرُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ :حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ خَالِدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَن رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ جَهَّزَ غَازِيًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَقَدْ غَزَا ، وَمَنْ خَلَفَ غَازِيًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ بِخَيْرٍ فَقَدْ غَزَا " .
زید بن خالد روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص نے اللہ کے راستے میں غزوہ کرنے والے کو ساز و سامان دیا تو وہ (گویا) خود غزوہ میں شریک ہوا اور جس نے خیر خواہانہ طریقہ پر غازی کے گھر بار کی نگرانی کی تو وہ (گویا) خود غزوہ میں شریک ہوا۔
صحیح بخاری حدیث ۲۸۴۳ کا خلاصہ
اس حدیث کا مرکزی موضوع جہاد میں تعاون ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا کہ جو شخص اللہ کے راستے میں غزوہ کرنے والے کو ساز و سامان دے، وہ گویا خود غزوہ میں شریک ہوا۔ اسی طرح جو غازی کے گھر بار کی خیر خواہانہ نگرانی کرے، اسے بھی یہی اجر ملتا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نیکی صرف میدان میں جا کر ہی نہیں ہوتی، بلکہ صحیح نیت کے ساتھ مدد کرنا بھی بہت قیمتی عمل ہے۔ غازی کی مدد، جہاد میں تعاون، اور فی سبیل اللہ خدمت جیسے کام انسان کو بڑے اجر کے قریب کر دیتے ہیں۔ حدیث میں خاص طور پر سامان دینے اور گھر والوں کی بھلائی سے دیکھ بھال کا ذکر ہے، اس لیے ہمیں اسی حد تک بات سمجھنی چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اللہ کے راستے میں جانے والے کی مدد کرنا اجر کا سبب ہے۔
- غازی کے گھر والوں کی بھلائی سے دیکھ بھال کرنا بھی نیکی ہے۔
- دین کے کام میں تعاون کرنے والا بھی اجر میں حصہ پا سکتا ہے۔
- مدد خیر خواہی کے ساتھ ہو، صرف دکھاوے کے لیے نہیں۔
