صحیح بخاری حدیث ۲۸۵۳ - اللہ کے راستے میں گھوڑا پالنے کا اجر
اللہ کے راستے میں گھوڑا پالنے کی حدیث: نیت کے ساتھ اجر
صحیح بخاری : ۲۸۵۳
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۸۵۳
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَفْصٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، أَخْبَرَنَا طَلْحَةُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ سَعِيدًا الْمَقْبُرِيَّ يُحَدِّثُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنِ احْتَبَسَ فَرَسًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ إِيمَانًا بِاللَّهِ ، وَتَصْدِيقًا بِوَعْدِهِ فَإِنَّ شِبَعَهُ وَرِيَّهُ ، وَرَوْثَهُ ، وَبَوْلَهُ فِي مِيزَانِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
ابوہریرہ روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جس شخص نے اللہ تعالیٰ پر ایمان کے ساتھ اور اس کے وعدہ ثواب کو جانتے ہوئے اللہ کے راستے میں (جہاد کے لیے) گھوڑا پالا تو اس گھوڑے کا کھانا، پینا اور اس کا پیشاب و لید سب قیامت کے دن اس کی ترازو میں ہو گا اور سب پر اس کو ثواب ملے گا۔“
صحیح بخاری حدیث ۲۸۵۳ کا خلاصہ
اس حدیث کا مرکزی موضوع نیت اور اجر ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص اللہ پر ایمان رکھتے ہوئے اور اس کے وعدہ ثواب کو سچ جانتے ہوئے اللہ کے راستے میں گھوڑا پالے، تو اس گھوڑے کا کھانا، پینا، پیشاب اور لید بھی قیامت کے دن اس کی ترازو میں ہو گا۔ اس حدیث میں نیت صاف طور پر بیان ہوئی ہے: ایمان باللہ اور اللہ کے وعدے کی تصدیق۔ اس لیے گھوڑا پالنا یہاں عام شوق کے طور پر نہیں، بلکہ فی سبیل اللہ مقصد کے ساتھ بیان ہوا ہے۔ اللہ کے راستے میں گھوڑا، اجر کی ترازو، اور ایمان کے ساتھ عمل جیسے الفاظ اس حدیث کے اصل پیغام کو سمجھاتے ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- عمل کی قدر نیت اور ایمان کے ساتھ بڑھتی ہے۔
- اللہ کے راستے میں گھوڑا رکھنا اجر کا سبب ہو سکتا ہے۔
- حدیث میں گھوڑے کی دیکھ بھال کے معمولی پہلوؤں کا بھی اجر بتایا گیا ہے۔
- اللہ کے وعدے پر یقین عمل کو مضبوط بناتا ہے۔
