صحیح بخاری حدیث ۲۸۵۲ - گھوڑے میں اجر اور مال غنیمت
گھوڑے میں خیر کی حدیث: اجر اور مال غنیمت کا بیان
صحیح بخاری : ۲۸۵۲
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۸۵۲
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ ، عَنْ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا عُرْوَةُ الْبَارِقِيُّ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الْخَيْلُ مَعْقُودٌ فِي نَوَاصِيهَا الْخَيْرُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ الْأَجْرُ وَالْمَغْنَمُ " .
عروہ بارقی روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”خیر و برکت قیامت تک گھوڑے کی پیشانی کے ساتھ بندھی رہے گی یعنی آخرت میں ثواب اور دنیا میں مال غنیمت ملتا رہے گا۔“
صحیح بخاری حدیث ۲۸۵۲ کا خلاصہ
اس حدیث کا مرکزی موضوع اجر ہے۔ عروہ بارقی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت تک گھوڑے کی پیشانی میں خیر بندھی رہے گی، یعنی آخرت میں اجر اور دنیا میں مال غنیمت۔ اس حدیث میں گھوڑے کی خیر کی وضاحت بھی آ گئی ہے۔ یہاں خیر کو دو پہلوؤں سے بیان کیا گیا: اجر اور مال غنیمت۔ اس لیے گھوڑے کی فضیلت کو اسی دینی مقصد کے ساتھ سمجھنا چاہیے۔ الخیل معقود فی نواصیھا الخیر، اجر والمغنم، اور گھوڑے میں خیر کی حدیث جیسے الفاظ اس روایت کے لیے اہم سرچ اصطلاحات ہیں۔ حدیث ہمیں نیکی کے وسائل کی قدر سکھاتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- گھوڑے کے ساتھ خیر کا تعلق اجر اور مال غنیمت کے طور پر بیان ہوا ہے۔
- آخرت کے اجر کو دنیاوی فائدے سے زیادہ اہم سمجھنا چاہیے۔
- اللہ کے راستے میں کام آنے والا گھوڑا باعث خیر بتایا گیا ہے۔
- حدیث میں خیر کی وضاحت خود الفاظ اجر اور مال غنیمت سے ہوئی ہے۔
