صحیح بخاری حدیث ۲۸۴۹ - گھوڑے کی پیشانی میں خیر
گھوڑے کی پیشانی میں خیر کی حدیث: قیامت تک برکت
صحیح بخاری : ۲۸۴۹
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۸۴۹
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْخَيْلُ فِي نَوَاصِيهَا الْخَيْرُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ " .
عبداللہ بن عمر روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”قیامت تک گھوڑے کی پیشانی کے ساتھ خیر و برکت وابستہ رہے گی (کیونکہ اس سے جہاد میں کام لیا جاتا رہے گا)۔“
صحیح بخاری حدیث ۲۸۴۹ کا خلاصہ
اس حدیث کا مرکزی موضوع گھوڑے کی فضیلت ہے۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت تک گھوڑے کی پیشانی کے ساتھ خیر و برکت وابستہ رہے گی۔ اس حدیث میں گھوڑے کی خیر، برکت اور دینی فائدے کا ذکر ہے۔ متن میں وجہ کی طرف اشارہ ہے کہ گھوڑا اللہ کے راستے میں کام آتا ہے۔ اس لیے گھوڑے کی فضیلت کو اسی انداز سے سمجھنا چاہیے۔ یہ بات بھی واضح ہے کہ حدیث میں قیامت تک خیر کا ذکر آیا ہے، اس لیے اسے معمولی بات نہیں سمجھنا چاہیے۔ گھوڑے کی برکت، الخیل فی نواصیھا الخیر، اور جہاد میں گھوڑا جیسے الفاظ اسی مضمون کو بیان کرتے ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- گھوڑے کے ساتھ خیر و برکت کا تعلق حدیث میں بیان ہوا ہے۔
- اللہ کے راستے میں کام آنے والی چیز کی قدر کرنی چاہیے۔
- حدیث گھوڑے کی فضیلت کو واضح کرتی ہے۔
- دینی مقصد سے استعمال ہونے والی سواری باعث خیر ہو سکتی ہے۔
