صحیح بخاری حدیث ۲۸۴۸ - اذان، اقامت اور امامت

اذان اور اقامت کی حدیث: نماز میں بڑے کو امام بنانا

صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۸۴۸

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا أَبُو شِهَابٍ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ ، قَالَ : انْصَرَفْتُ مِنْ عِنْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " لَنَا أَنَا وَصَاحِبٍ لِي أَذِّنَا وَأَقِيمَا ، وَلْيَؤُمَّكُمَا أَكْبَرُكُمَا " .

مالک بن حویرث روایت:

جب ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں سے وطن کے لیے واپس لوٹے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا ایک میں تھا اور دوسرے میرے ساتھی ‘ (ہر نماز کے وقت) اذان پکارنا اور اقامت کہنا اور تم دونوں میں جو بڑا ہو وہ نماز پڑھائے۔

صحیح بخاری حدیث ۲۸۴۸ کا خلاصہ

اس حدیث کا مرکزی موضوع نماز ہے۔ مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے وطن واپس لوٹے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم دونوں اذان دو، اقامت کہو، اور تم میں جو بڑا ہو وہ نماز پڑھائے۔ اس حدیث میں جماعت کی نماز، اذان و اقامت، اور امامت کے ایک سادہ اصول کا ذکر ہے۔ جب دو لوگ ہوں اور نماز کا وقت ہو تو نماز کے نظم کا خیال رکھا جائے۔ حدیث میں خاص طور پر دو ساتھیوں کو مخاطب کیا گیا، اس لیے بات کو اسی دائرے میں سمجھنا چاہیے۔ نماز کی پابندی، اذان، اقامت اور بڑے کی امامت کا یہ انداز دینی تربیت کا خوب صورت نمونہ ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نماز کے وقت اذان اور اقامت کا اہتمام کرنا چاہیے۔
  • دو لوگوں میں بھی نماز کا نظم رکھا جا سکتا ہے۔
  • اس حدیث میں بڑے کو امامت کے لیے آگے کرنے کا حکم آیا ہے۔
  • نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کو واپس جاتے وقت بھی دینی ہدایات دیتے تھے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں