صحیح بخاری حدیث ۶۳۱ - جیسے مجھے نماز پڑھتے دیکھا ہے

صلوا كما رأيتموني أصلي: نبی صلى الله عليه وسلم کی طرح نماز پڑھنے کی حدیث

صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۳۱

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، أَتَيْنَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ شَبَبَةٌ مُتَقَارِبُونَ ، فَأَقَمْنَا عِنْدَهُ عِشْرِينَ يَوْمًا وَلَيْلَةً ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَحِيمًا رَفِيقًا ، فَلَمَّا ظَنَّ أَنَّا قَدِ اشْتَهَيْنَا أَهْلَنَا أَوْ قَدِ اشْتَقْنَا سَأَلَنَا عَمَّنْ تَرَكْنَا بَعْدَنَا ، فَأَخْبَرْنَاهُ ، قَالَ : " ارْجِعُوا إِلَى أَهْلِيكُمْ ، فَأَقِيمُوا فِيهِمْ وَعَلِّمُوهُمْ وَمُرُوهُمْ ، وَذَكَرَ أَشْيَاءَ أَحْفَظُهَا أَوْ لَا أَحْفَظُهَا وَصَلُّوا كَمَا رَأَيْتُمُونِي أُصَلِّي ، فَإِذَا حَضَرَتِ الصَّلَاةُ فَلْيُؤَذِّنْ لَكُمْ أَحَدُكُمْ وَلْيَؤُمَّكُمْ أَكْبَرُكُمْ " .

مالک بن حویرث روایت:

ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے۔ ہم سب ہم عمر اور نوجوان ہی تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت مبارک میں ہمارا بیس دن و رات قیام رہا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بڑے ہی رحم دل اور ملنسار تھے۔جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ ہمیں اپنے وطن واپس جانے کا شوق ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ تم لوگ اپنے گھر کسے چھوڑ کر آئے ہو۔ ہم نے بتایا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اچھا اب تم اپنے گھر جاؤ اور ان گھر والوں کے ساتھ رہو اور انہیں بھی دین سکھاؤ اور دین کی باتوں پر عمل کرنے کا حکم کرو۔مالک نے بہت سی چیزوں کا ذکر کیا جن کے متعلق ابوایوب نے کہا کہ ابوقلابہ نے یوں کہا وہ باتیں مجھ کو یاد ہیں یا یوں کہا مجھ کو یاد نہیں۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسی طرح نماز پڑھنا جیسے تم نے مجھے نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے اور جب نماز کا وقت آ جائے تو کوئی ایک اذان دے اور جو تم میں سب سے بڑا ہو وہ نماز پڑھائے۔

صحیح بخاری حدیث ۶۳۱ کا خلاصہ

اس حدیث میں مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ چند ہم عمر نوجوانوں کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور بیس دن رات رہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رحم دل اور ملنسار تھے۔ جب آپ نے محسوس کیا کہ انہیں اپنے گھر والوں کی یاد آ رہی ہے تو آپ نے انہیں واپس جانے، گھر والوں کے ساتھ رہنے، انہیں دین سکھانے اور حکم دینے کی ہدایت فرمائی۔ پھر فرمایا کہ نماز اسی طرح پڑھو جیسے تم نے مجھے نماز پڑھتے دیکھا ہے۔ جب نماز کا وقت آ جائے تو ایک شخص اذان دے، اور عمر میں بڑا امامت کرائے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نماز کا طریقہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل سے سیکھنا چاہیے۔
  • دین سیکھ کر گھر والوں کو بھی سکھانا چاہیے۔
  • جماعت میں اذان اور امامت کا اہتمام کیا گیا۔
  • نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نوجوان صحابہ کے جذبات کا خیال رکھتے تھے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں