صحیح بخاری حدیث ۶۳۰ - سفر میں اذان، اقامت اور امامت

سفر میں اذان اور اقامت کہنے کی حدیث

صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۳۰

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ ، قَالَ : أَتَى رَجُلَانِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُرِيدَانِ السَّفَرَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا أَنْتُمَا خَرَجْتُمَا فَأَذِّنَا ، ثُمَّ أَقِيمَا ، ثُمَّ لِيَؤُمَّكُمَا أَكْبَرُكُمَا " .

مالک بن حویرث روایت:

دو شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے یہ کسی سفر میں جانے والے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ دیکھو جب تم سفر میں نکلو تو (نماز کے وقت راستے میں) اذان دینا پھر اقامت کہنا، پھر جو شخص تم میں عمر میں بڑا ہو نماز پڑھائے۔

صحیح بخاری حدیث ۶۳۰ کا خلاصہ

اس حدیث میں دو آدمیوں کا واقعہ ہے جو سفر پر جانے والے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں نماز کے بارے میں واضح ہدایت دی۔ آپ نے فرمایا کہ جب تم سفر میں نکلو تو نماز کے وقت اذان دینا، پھر اقامت کہنا، پھر جو تم میں عمر میں بڑا ہو وہ نماز پڑھائے۔ اس حدیث میں سفر کی حالت میں بھی نماز کی ترتیب باقی رکھی گئی ہے۔ سفر ہو یا قیام، نماز کو معمولی بات نہیں سمجھا گیا۔ دو آدمی بھی ہوں تو اذان، اقامت اور جماعت کی صورت بن سکتی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نماز کا نظام سادہ بھی ہے اور منظم بھی۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • سفر میں بھی نماز کے وقت اذان دی جا سکتی ہے۔
  • دو افراد ہوں تو بھی اقامت اور جماعت کا اہتمام ہو سکتا ہے۔
  • عمر میں بڑے کو امامت کے لیے مقدم کیا گیا۔
  • نماز کی ترتیب سفر میں بھی باقی رہتی ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں