صحیح بخاری حدیث ۶۲۹ - سخت گرمی میں نماز کو ٹھنڈا کرنا
سخت گرمی میں ظہر کو ٹھنڈا کرنے کی حدیث
صحیح بخاری : ۶۲۹
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۲۹
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ الْمُهَاجِرِ أَبِي الْحَسَنِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : " كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَأَرَادَ الْمُؤَذِّنُ أَنْ يُؤَذِّنَ ، فَقَالَ لَهُ : أَبْرِدْ ، ثُمَّ أَرَادَ أَنْ يُؤَذِّنَ ، فَقَالَ لَهُ : أَبْرِدْ ، ثُمَّ أَرَادَ أَنْ يُؤَذِّنَ ، فَقَالَ لَهُ : أَبْرِدْ ، حَتَّى سَاوَى الظِّلُّ التُّلُولَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ " .
ابوذر غفاری روایت:
ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے۔ مؤذن نے اذان دینی چاہی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ٹھنڈا ہونے دے۔ پھر مؤذن نے اذان دینی چاہی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر یہی فرمایا کہ ٹھنڈا ہونے دے۔ یہاں تک کہ سایہ ٹیلوں کے برابر ہو گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ گرمی کی شدت دوزخ کی بھاپ سے پیدا ہوتی ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۶۲۹ کا خلاصہ
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں تھے۔ مؤذن نے اذان دینا چاہی تو آپ نے فرمایا کہ ٹھنڈا ہونے دے۔ مؤذن نے پھر ارادہ کیا تو آپ نے دوبارہ یہی فرمایا۔ یہاں تک کہ سایہ ٹیلوں کے برابر ہو گیا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ گرمی کی شدت دوزخ کی بھاپ سے ہے۔ اس حدیث میں خاص طور پر سفر اور سخت گرمی کا ذکر ہے۔ اس سے یہ بات سمجھ آتی ہے کہ نماز کے وقت میں لوگوں کی حالت کا بھی خیال رکھا گیا، اور سخت گرمی میں جلدی کے بجائے مناسب ٹھنڈک کا انتظار کیا گیا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- سخت گرمی میں نماز کے لیے مناسب ٹھنڈک کا انتظار کیا گیا۔
- یہ واقعہ سفر کی حالت میں پیش آیا۔
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مؤذن کو جلدی نہ کرنے کا فرمایا۔
- گرمی کی شدت کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خاص بات بیان فرمائی۔
