صحیح مسلم حدیث ۱۵۳۸ - نماز کے وقت اذان، اقامت اور امامت
اذان اور اقامت کی حدیث: نماز کے وقت کا سادہ نبوی حکم
صحیح مسلم : ۱۵۳۸
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۵۳۸
وحَدَّثَنِي إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ ، قَالَ : أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَا وَصَاحِبٌ لِي ، فَلَمَّا أَرَدْنَا الإِقْفَالَ مِنْ عِنْدِهِ ، قَالَ لَنَا : " إِذَا حَضَرَتِ الصَّلَاةُ ، فَأَذِّنَا ، ثُمَّ أَقِيمَا ، وَلْيَؤُمَّكُمَا أَكْبَرُكُمَا " .
مالک بن حویرث روایت:
میں اور میرا ایک رفیق نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا پھر جب ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے لوٹنا چاہا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب نماز کا وقت آئے تو اذان دینا اور اقامت کہنا اور تم میں سے جو بڑا ہو وہ امامت کرے۔“
صحیح مسلم حدیث ۱۵۳۸ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدنا مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ اور ان کے ایک ساتھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے۔ جب وہ واپس جانا چاہتے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب نماز کا وقت آئے تو تم دونوں اذان دینا، پھر اقامت کہنا، اور تم میں سے جو بڑا ہو وہ امامت کرے۔ یہ حدیث اذان، اقامت اور امامت کے بارے میں بہت واضح رہنمائی دیتی ہے۔ اس میں دو افراد کا ذکر ہے، اس لیے یہ چھوٹی جماعت کے نظم کو بھی سمجھاتی ہے۔ نماز کے وقت کو اہم سمجھنا، اذان کے ذریعے اعلان کرنا، اقامت کے بعد نماز قائم کرنا، اور امامت میں عمر کا لحاظ کرنا اس روایت کے اہم نکات ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نماز کا وقت آئے تو اذان اور اقامت کا اہتمام کیا جائے۔
- دو افراد بھی ہوں تو نماز کا نظم برقرار رکھا جائے۔
- امامت کے لیے بڑے کو آگے کرنے کا حکم دیا گیا۔
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سفر یا واپسی کے موقع پر بھی نماز کی ترتیب سکھائی۔
