صحیح مسلم حدیث ۱۵۳۹ - اذان، اقامت اور بڑے کی امامت

امامت میں بڑا شخص: جب قراءت قریب قریب ہو

صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۵۳۹

وحَدَّثَنَاه أَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ ، حَدَّثَنَا حَفْصٌ يَعْنِي ابْنَ غِيَاثٍ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ، وَزَادَ ، قَالَ الْحَذَّاءُ وَكَانَا مُتَقَارِبَيْنِ فِي الْقِرَاءَةِ .

‏‏‏‏ اس سند سے بھی مذکورہ روایت کی مانند حدیث آئی ہے۔

صحیح مسلم حدیث ۱۵۳۹ کا خلاصہ

یہ روایت بھی سیدنا مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ کے اسی واقعے کی طرح ہے۔ اس میں نماز کے وقت اذان، پھر اقامت، اور پھر بڑے شخص کی امامت کا حکم بیان ہوا ہے۔ اس روایت میں ایک اضافہ یہ بھی آیا کہ وہ دونوں قراءت میں قریب قریب تھے۔ یہ بات سمجھنے میں مدد دیتی ہے کہ یہاں بڑے کو امام بنانے کا حکم اس حالت میں تھا جب قراءت میں کوئی نمایاں فرق نہیں تھا۔ اس لیے حدیث کا پیغام بہت متوازن ہے: نماز کا وقت آئے تو اذان و اقامت ہو، جماعت میں امام ہو، اور حالات کے مطابق مناسب شخص آگے ہو۔ یہ روایت چھوٹی جماعت، سفر یا دو ساتھیوں کی نماز کے نظم کے لیے صاف رہنمائی دیتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • اذان اور اقامت نماز کے نظم کا حصہ ہیں۔
  • قراءت قریب قریب ہو تو بڑے کو امامت کے لیے آگے کیا گیا۔
  • چھوٹی جماعت میں بھی امام کا تعین ہونا چاہیے۔
  • دینی احکام میں حالات کا ذکر سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں