صحیح مسلم حدیث ۱۵۴۰ - قنوت نازلہ اور مظلوم مسلمانوں کے لیے دعا
قنوت نازلہ کی دعا: کمزور مؤمنوں کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی فریاد
صحیح مسلم : ۱۵۴۰
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۵۴۰
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَا : أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ، وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، أَنَّهُمَا سَمِعَا أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ حِينَ يَفْرُغُ مِنْ صَلَاةِ الْفَجْرِ ، مِنَ الْقِرَاءَةِ ، وَيُكَبِّرُ ، وَيَرْفَعُ رَأْسَهُ : سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ، رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ ، ثُمَّ يَقُولُ وَهُوَ قَائِمٌ : اللَّهُمَّ أَنْجِ الْوَلِيدَ بْنَ الْوَلِيدِ وَسَلَمَةَ بْنَ هِشَامٍ ، وَعَيَّاشَ بْنَ أَبِي رَبِيعَةَ وَالْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ ، اللَّهُمَّ اشْدُدْ وَطْأَتَكَ عَلَى مُضَرَ ، وَاجْعَلْهَا عَلَيْهِمْ كَسِنِي يُوسُفَ ، اللَّهُمَّ الْعَنْ لِحْيَانَ ، وَرِعْلًا ، وَذَكْوَانَ ، وَعُصَيَّةَ عَصَتِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ ، ثُمَّ بَلَغَنَا ، أَنَّهُ تَرَكَ ذَلِكَ لَمَّا أُنْزِلَ لَيْسَ لَكَ مِنَ الأَمْرِ شَيْءٌ أَوْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ أَوْ يُعَذِّبَهُمْ فَإِنَّهُمْ ظَالِمُونَ سورة آل عمران آية 128 " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز فجر کی قرأت سے فارغ ہو جاتے تو سر مبارک رکوع سے اٹھاتے (یعنی دوسری رکعت میں) کہتے «سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ» یعنی ”سنا اللہ نے جس نے اس کی حمد کی، اے ہمارے رب! سب تعریف تجھ ہی کو ہے“ پھر کھڑے ہی کھڑے کہتے: ”یا اللہ! نجات دے ولید بن ولید کو اور سلمہ بن ہشام اور عیاش بن ابی ربیعہ کو (یہ سب مسلمان کفار کے ہاتھ میں تھے) اور نجات دے مؤمنوں میں سے ضعیف لوگوں کو، (یعنی جو مکہ والوں کے ہاتھ میں دبے پڑے ہیں) یا اللہ (قبیلہ) مضر کو اپنی سختی سے روندھ دے اور ان پر یوسف علیہ السلام کے زمانہ کی طرح قحط ڈال دے (جیسے مصر میں سات برس واقع ہوا تھا) یا اللہ! لعنت کر لحیان اور رعل اور ذکوان اور عصیہ پر جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی) پھر ہم کو خبر پہنچی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بددعا موقوف کی جب یہ آیت اتری «لَيْسَ لَكَ مِنَ الأَمْرِ شَىْءٌ أَوْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ أَوْ يُعَذِّبَهُمْ فَإِنَّهُمْ ظَالِمُونَ» یعنی ”اے نبی! تم کو اس کام میں کچھ اختیار نہیں اللہ چاہے تو ان کی توبہ قبول کرے چاہے انہیں عذاب کرے کیونکہ وہ ظالم ہیں۔“
صحیح مسلم حدیث ۱۵۴۰ کا خلاصہ
اس حدیث میں فجر کی نماز کے اندر قنوت نازلہ کا واقعہ بیان ہوا ہے۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بتاتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی قراءت سے فارغ ہو کر، رکوع سے سر اٹھا کر، سمع اللہ لمن حمدہ ربنا ولک الحمد کہتے، پھر کھڑے کھڑے دعا فرماتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ولید بن ولید، سلمہ بن ہشام، عیاش بن ابی ربیعہ اور کمزور مؤمنوں کی نجات کے لیے دعا کی۔ ساتھ ہی مضر کے لیے سختی اور بعض قبائل کے لیے بددعا کا ذکر بھی آیا۔ پھر خبر پہنچی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا چھوڑ دی جب یہ آیت نازل ہوئی کہ آپ کے اختیار میں کچھ نہیں، اللہ چاہے تو توبہ قبول کرے یا عذاب دے۔ اس حدیث کا اصل پیغام دعا، مظلوم مؤمنوں کی فکر، اور اللہ کے فیصلے کے سامنے بندگی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مصیبت کے وقت مؤمنوں کے لیے نماز میں دعا کی گئی۔
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کمزور مسلمانوں کی نجات کے لیے دعا فرمائی۔
- قنوت نازلہ میں دعا رکوع کے بعد کھڑے ہو کر بیان ہوئی۔
- آخرکار معاملہ اللہ کے اختیار اور فیصلے کے سپرد ہے۔
