صحیح مسلم حدیث ۱۵۳۷ - نوجوانوں کو دین سکھانے کا نبوی انداز

دینی تعلیم کی حدیث: جوان صحابہ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شفقت

صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۵۳۷

وحَدَّثَنَاه ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، عَنْ أَيُّوبَ ، قَالَ : قَالَ لِي أَبُو قِلَابَةَ حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ الْحُوَيْرِثِ أَبُو سُلَيْمَانَ ، قَالَ : أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ فِي نَاسٍ وَنَحْنُ شَبَبَةٌ مُتَقَارِبُونَ ، وَاقْتَصَّا جَمِيعًا الْحَدِيثَ ، بِنَحْوِ حَدِيثِ ابْنِ عُلَيَّةَ .

مالک بن حویرث ابوسلیمان روایت:

میں اور کچھ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور ہم جوان تھے اور ہم عمر تھے اور باقی سارا واقعہ وہی بیان کیا جو مذکورہ حدیث میں ہے۔

صحیح مسلم حدیث ۱۵۳۷ کا خلاصہ

اس روایت میں سیدنا مالک بن حویرث ابوسلیمان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ کچھ لوگوں کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، وہ سب جوان اور ہم عمر تھے، اور پھر وہی واقعہ بیان کیا گیا جو پہلے گزر چکا ہے۔ اس واقعے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شفقت، جوانوں کی تعلیم، گھر والوں کی یاد کا خیال، اور واپس جا کر لوگوں کو دین سکھانے کا حکم شامل ہے۔ اس حدیث کا اصل پیغام یہ ہے کہ دین سیکھنے والے کو اپنے ماحول میں خیر پھیلانی چاہیے۔ نماز کا وقت آئے تو اذان ہو، اور امامت کے لیے ایک مناسب ترتیب ہو۔ یہ روایت نوجوانوں کے لیے خاص طور پر اہم ہے کہ دین سیکھنا اور آگے پہنچانا دونوں کام ضروری ہیں۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • جوانی میں دین سیکھنا بڑی خیر کا کام ہے۔
  • نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تعلیم کے ساتھ شفقت بھی فرماتے تھے۔
  • سیکھنے کے بعد اپنے لوگوں کو دین بتانا چاہیے۔
  • نماز کے نظم میں اذان اور امامت دونوں کا خیال رکھا جائے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں