صحیح بخاری حدیث ۲۸۵۰ - گھوڑے میں بندھی ہوئی خیر
الخیل معقود فی نواصیھا الخیر: گھوڑے میں برکت کی حدیث
صحیح بخاری : ۲۸۵۰
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۸۵۰
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ حُصَيْنٍ وَابْنِ أَبِي السَّفَرِ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الْجَعْدِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الْخَيْلُ مَعْقُودٌ فِي نَوَاصِيهَا الْخَيْرُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ " ، قَالَ سُلَيْمَانُ : عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، تَابَعَهُ مُسَدَّدٌ ، عَنْ هُشَيْمٍ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ .
عروہ بن جعد روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”قیامت تک گھوڑے کی پیشانی کے ساتھ خیر و برکت بندھی رہے گی۔“ سلیمان نے شعبہ کے واسطہ سے بیان کیا کہ ان سے عروہ بن ابی الجعد رضی اللہ عنہ نے اس روایت کی متابعت (جس میں بجائے ابن الجعد کے ابن ابی الجعد ہے) مسدد نے ہشیم سے کی، ان سے حصین نے، ان سے شعبی نے اور ان سے عروہ ابن ابی الجعد نے۔
صحیح بخاری حدیث ۲۸۵۰ کا خلاصہ
اس حدیث کا مرکزی موضوع گھوڑے کی برکت ہے۔ عروہ بن جعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت تک گھوڑے کی پیشانی کے ساتھ خیر بندھی رہے گی۔ حدیث کے الفاظ میں گھوڑے کے ساتھ خیر کا مضبوط تعلق بیان ہوا ہے۔ اسی لیے لوگ اس حدیث کو الخیل معقود فی نواصیھا الخیر کے نام سے بھی تلاش کرتے ہیں۔ یہاں اصل پیغام یہ ہے کہ گھوڑا، خاص طور پر اللہ کے راستے میں کام آنے کے لحاظ سے، خیر کا ذریعہ ہے۔ ہمیں اس حدیث میں بیان شدہ بات سے آگے بڑھ کر اپنی طرف سے ایسے دعوے نہیں کرنے چاہییں جو متن میں نہیں آئے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حدیث میں گھوڑے کی پیشانی کے ساتھ خیر بندھی ہونے کا ذکر ہے۔
- قیامت تک خیر کا بیان اس فضیلت کی پائیداری بتاتا ہے۔
- دینی کام میں استعمال ہونے والی سواری کی قدر ہونی چاہیے۔
- حدیث کے الفاظ کو اسی طرح سمجھنا چاہیے جیسے بیان ہوئے ہیں۔
