صحیح بخاری حدیث ۲۸۵۶ - اللہ کا حق اور بندوں کا حق
اللہ کا حق بندوں پر: توحید اور شرک سے بچنے کی حدیث
صحیح بخاری : ۲۸۵۶
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۸۵۶
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، سَمِعَ يَحْيَى بْنَ آدَمَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ ، عَنْ مُعَاذٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : كُنْتُ رِدْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى حِمَارٍ ، يُقَالُ لَهُ : عُفَيْرٌ ، فَقَالَ : " يَا مُعَاذُ هَلْ تَدْرِي حَقَّ اللَّهِ عَلَى عِبَادِهِ وَمَا حَقُّ الْعِبَادِ عَلَى اللَّهِ ؟ ، قُلْتُ : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ، قَالَ : فَإِنَّ حَقَّ اللَّهِ عَلَى الْعِبَادِ أَنْ يَعْبُدُوهُ ، وَلَا يُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا ، وَحَقَّ الْعِبَادِ عَلَى اللَّهِ أَنْ لَا يُعَذِّبَ مَنْ لَا يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَفَلَا أُبَشِّرُ بِهِ النَّاسَ ، قَالَ : لَا تُبَشِّرْهُمْ فَيَتَّكِلُوا " .
معاذ روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جس گدھے پر سوار تھے، میں اس پر آپ کے پیچھے بیٹھا ہوا تھا۔ اس گدھے کا نام عفیر تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اے معاذ! کیا تمہیں معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ کا حق اپنے بندوں پر کیا ہے؟ اور بندوں کا حق اللہ تعالیٰ پر کیا ہے؟“ میں نے عرض کیا اللہ اور اس کے رسول ہی زیادہ جانتے ہیں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ کا حق اپنے بندوں پر یہ ہے کہ اس کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں اور بندوں کا حق اللہ تعالیٰ پر یہ ہے کہ جو بندہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو اللہ اسے عذاب نہ دے۔“ میں نے کہا یا رسول اللہ! کیا میں اس کی لوگوں کو بشارت نہ دے دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”لوگوں کو اس کی بشارت نہ دو ورنہ وہ خالی اعتماد کر بیٹھیں گے۔ (اور نیک اعمال سے غافل ہو جائیں گے)۔“
صحیح بخاری حدیث ۲۸۵۶ کا خلاصہ
اس حدیث کا مرکزی موضوع توحید ہے۔ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے عفیر نامی گدھے پر سوار تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ اللہ کا حق بندوں پر کیا ہے اور بندوں کا حق اللہ پر کیا ہے؟ معاذ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کا حق یہ ہے کہ بندے اس کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں۔ پھر فرمایا کہ جو بندہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائے، اللہ اسے عذاب نہ دے۔ جب معاذ رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو خوش خبری دینے کی اجازت چاہی تو آپ نے فرمایا کہ ایسا نہ کرو، ورنہ لوگ خالی اعتماد کر بیٹھیں گے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اللہ کا حق ہے کہ صرف اسی کی عبادت کی جائے۔
- شرک سے بچنا اس حدیث کا صاف اور بنیادی پیغام ہے۔
- دینی بات بتاتے وقت لوگوں کے عمل پر اثر کا خیال رکھنا چاہیے۔
- خوش خبری کے ساتھ عمل سے غفلت نہیں ہونی چاہیے۔
