صحیح بخاری حدیث ۷۳۷۳ - اللہ کا حق بندوں پر
اللہ کا حق اور بندوں کا حق والی حدیث
صحیح بخاری : ۷۳۷۳
صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۳۷۳
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ وَالْأَشْعَثِ بْنِ سُلَيْمٍ ، سَمِعَا الْأَسْوَدَ بْنَ هِلَالٍ ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا مُعَاذُ أَتَدْرِي مَا حَقُّ اللَّهِ عَلَى الْعِبَادِ ؟ ، قَالَ : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ، قَالَ : أَنْ يَعْبُدُوهُ وَلَا يُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا أَتَدْرِي مَا حَقُّهُمْ عَلَيْهِ ؟ ، قَالَ : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ، قَالَ : أَنْ لَا يُعَذِّبَهُمْ " .
معاذ بن جبل روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اے معاذ! کیا تمہیں معلوم ہے کہ اللہ کا اس کے بندوں پر کیا حق ہے؟“ انہوں نے کہا کہ اللہ اور اس کے رسول ہی زیادہ جانتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ ہے کہ وہ صرف اسی کی عبادت کریں اور اس کا کوئی شریک نہ ٹھہرائیں۔ کیا تمہیں معلوم ہے پھر بندوں کا اللہ پر کیا حق ہے؟ عرض کیا کہ اللہ اور اس کے رسول ہی زیادہ جانتے ہیں، فرمایا یہ ہے کہ وہ انہیں عذاب نہ دے۔
صحیح بخاری حدیث ۷۳۷۳ کا خلاصہ
اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا تم جانتے ہو اللہ کا بندوں پر کیا حق ہے؟ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے ادب سے جواب دیا کہ اللہ اور اس کے رسول ہی زیادہ جانتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کا حق یہ ہے کہ بندے صرف اسی کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ بندوں کا اللہ پر کیا حق ہے؟ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے پھر وہی جواب دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ انہیں عذاب نہ دے۔ اس حدیث کا مرکزی موضوع توحید ہے۔ بندگی کا اصل مطلب یہ ہے کہ عبادت صرف اللہ کے لیے ہو، شرک سے بچا جائے، اور اللہ کے وعدے پر یقین رکھا جائے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اللہ کا حق ہے کہ صرف اسی کی عبادت کی جائے۔
- شرک سے بچنا توحید کا بنیادی حصہ ہے۔
- علمی سوال میں ادب کے ساتھ جواب دینا صحابہ کا طریقہ تھا۔
- حدیث میں اللہ کی رحمت اور توحید والوں کے لیے امید کا بیان ہے۔
