صحیح بخاری حدیث ۷۳۷۲ - دعوت کا آغاز توحید سے
دعوت کا آغاز توحید سے کرنے کی حدیث
صحیح بخاری : ۷۳۷۲
صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۳۷۲
وَحَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي الْأَسْوَدِ ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَيْفِيٍّ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا مَعْبَدٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ : " لَمَّا بَعَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ إِلَى نَحْوِ أَهْلِ الْيَمَنِ ، قَالَ لَهُ : إِنَّكَ تَقْدَمُ عَلَى قَوْمٍ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ ، فَلْيَكُنْ أَوَّلَ مَا تَدْعُوهُمْ إِلَى أَنْ يُوَحِّدُوا اللَّهَ تَعَالَى فَإِذَا عَرَفُوا ذَلِكَ ، فَأَخْبِرْهُمْ أَنَّ اللَّهَ قَدْ فَرَضَ عَلَيْهِمْ خَمْسَ صَلَوَاتٍ فِي يَوْمِهِمْ وَلَيْلَتِهِمْ ، فَإِذَا صَلَّوْا ، فَأَخْبِرْهُمْ أَنَّ اللَّهَ افْتَرَضَ عَلَيْهِمْ زَكَاةً فِي أَمْوَالِهِمْ تُؤْخَذُ مِنْ غَنِيِّهِمْ ، فَتُرَدُّ عَلَى فَقِيرِهِمْ فَإِذَا أَقَرُّوا بِذَلِكَ ، فَخُذْ مِنْهُمْ وَتَوَقَّ كَرَائِمَ أَمْوَالِ النَّاسِ " .
عبداللہ بن عباس روایت:
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو یمن بھیجا تو ان سے فرمایا کہ تم اہل کتاب میں سے ایک قوم کے پاس جا رہے ہو۔ اس لیے سب سے پہلے انہیں اس کی دعوت دینا کہ وہ اللہ کو ایک مانیں (اور میری رسالت کو مانیں) جب وہ اسے سمجھ لیں تو پھر انہیں بتانا کہ اللہ نے ایک دن اور رات میں ان پر پانچ نمازیں فرض کی ہیں۔جب وہ نماز پڑھنے لگیں تو انہیں بتانا کہ اللہ نے ان پر ان کے مالوں میں زکوٰۃ فرض کی ہے، جو ان کے امیروں سے لی جائے گی اور ان کے غریبوں کو لوٹا دی جائے گی۔ جب وہ اس کا بھی اقرار کر لیں تو ان سے زکوٰۃ لینا اور لوگوں کے عمدہ مال لینے سے پرہیز کرنا۔
صحیح بخاری حدیث ۷۳۷۲ کا خلاصہ
اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو یمن بھیجتے وقت صاف ہدایات دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم اہل کتاب کی ایک قوم کے پاس جا رہے ہو، اس لیے سب سے پہلے انہیں اللہ کو ایک ماننے کی دعوت دینا۔ جب وہ اسے سمجھ لیں تو انہیں بتانا کہ اللہ نے دن اور رات میں پانچ نمازیں فرض کی ہیں۔ جب وہ نماز پڑھنے لگیں تو انہیں بتانا کہ اللہ نے ان کے مالوں میں زکوٰۃ فرض کی ہے، جو امیروں سے لی جائے گی اور غریبوں کو دی جائے گی۔ پھر فرمایا کہ زکوٰۃ لیتے وقت لوگوں کے عمدہ مال لینے سے بچنا۔ اس حدیث میں دعوت دین کا ترتیب وار طریقہ موجود ہے: پہلے توحید، پھر نماز، پھر زکوٰۃ۔ اس میں مالی انصاف اور لوگوں کے حق کا خیال بھی صاف موجود ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- دعوت کا پہلا موضوع توحید ہے۔
- نماز دین کا بنیادی فریضہ ہے جو توحید کے بعد بتایا گیا۔
- زکوٰۃ امیروں سے لے کر غریبوں کو دی جاتی ہے۔
- زکوٰۃ لیتے وقت لوگوں کا بہترین مال لینے سے بچنے کا حکم دیا گیا۔
