صحیح بخاری حدیث ۱۴۹۶ - معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن کی نصیحت
معاذ رضی اللہ عنہ کی حدیث: دعوت، نماز، زکوٰۃ اور عدل
صحیح بخاری : ۱۴۹۶
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۴۹۶
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَيْفِيٍّ ، عَنْ أَبِي مَعْبَدٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : " قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ حِينَ بَعَثَهُ إِلَى الْيَمَنِ : إِنَّكَ سَتَأْتِي قَوْمًا أَهْلَ كِتَابٍ ، فَإِذَا جِئْتَهُمْ فَادْعُهُمْ إِلَى أَنْ يَشْهَدُوا أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ ، فَإِنْ هُمْ أَطَاعُوا لَكَ بِذَلِكَ فَأَخْبِرْهُمْ أَنَّ اللَّهَ قَدْ فَرَضَ عَلَيْهِمْ خَمْسَ صَلَوَاتٍ فِي كُلِّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ ، فَإِنْ هُمْ أَطَاعُوا لَكَ بِذَلِكَ فَأَخْبِرْهُمْ أَنَّ اللَّهَ قَدْ فَرَضَ عَلَيْهِمْ صَدَقَةً تُؤْخَذُ مِنْ أَغْنِيَائِهِمْ فَتُرَدُّ عَلَى فُقَرَائِهِمْ ، فَإِنْ هُمْ أَطَاعُوا لَكَ بِذَلِكَ فَإِيَّاكَ وَكَرَائِمَ أَمْوَالِهِمْ وَاتَّقِ دَعْوَةَ الْمَظْلُومِ فَإِنَّهُ لَيْسَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ اللَّهِ حِجَابٌ " .
عبداللہ بن عباس روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے معاذ رضی اللہ عنہ کو جب یمن بھیجا ‘ تو ان سے فرمایا کہ تم ایک ایسی قوم کے پاس جا رہے ہو جو اہل کتاب ہیں۔ اس لیے جب تم وہاں پہنچو تو پہلے انہیں دعوت دو کہ وہ اس بات کی گواہی دیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم) اللہ کے سچے رسول ہیں۔ وہ اس بات میں جب تمہاری بات مان لیں تو انہیں بتاؤ کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر روزانہ دن رات میں پانچ وقت کی نمازیں فرض کی ہیں۔جب وہ تمہاری یہ بات بھی مان لیں تو انہیں بتاؤ کہ ان کے لیے اللہ تعالیٰ نے زکوٰۃ دینا ضروری قرار دیا ہے ‘ یہ ان کے مالداروں سے لی جائے گی اور ان کے غریبوں پر خرچ کی جائے گی۔ پھر جب وہ اس میں بھی تمہاری بات مان لیں تو ان کے اچھے مال لینے سے بچو اور مظلوم کی آہ سے ڈرو کہ اس کے اور اللہ تعالیٰ کے درمیان کوئی رکاوٹ نہیں ہوتی۔
صحیح بخاری حدیث ۱۴۹۶ کا خلاصہ
یہ حدیث دعوت اور زکوٰۃ کے بارے میں بہت جامع رہنمائی دیتی ہے۔ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو یمن بھیجتے ہوئے فرمایا کہ تم اہل کتاب کے پاس جا رہے ہو۔ پہلے انہیں توحید اور رسالت کی گواہی کی دعوت دو۔ اگر وہ مان لیں تو انہیں دن رات کی پانچ نمازوں کا بتاؤ۔ پھر اگر وہ اسے بھی مان لیں تو انہیں زکوٰۃ کا حکم بتاؤ، جو ان کے مالداروں سے لی جائے گی اور ان کے غریبوں پر خرچ کی جائے گی۔ آخر میں آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ ان کے بہترین مال لینے سے بچو اور مظلوم کی دعا سے ڈرو، کیونکہ اس کے اور اللہ کے درمیان کوئی رکاوٹ نہیں۔ یہ حدیث دعوت کی ترتیب، زکوٰۃ کا مقصد، اور عدل کے بارے میں بہت صاف سبق دیتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- دعوت میں بنیادی عقیدہ پہلے بیان کیا جاتا ہے۔
- نماز کے بعد زکوٰۃ کا حکم بتایا گیا۔
- زکوٰۃ مالداروں سے لے کر غریبوں کو دی جاتی ہے۔
- زکوٰۃ لیتے وقت اچھے مال پر زیادتی نہ کی جائے اور مظلوم کی دعا سے ڈرا جائے۔
