صحیح بخاری حدیث ۱۴۸۴ - پانچ وسق، پانچ اونٹ اور چاندی کا نصاب
زکوٰۃ کے نصاب کی حدیث: پانچ وسق، پانچ اونٹ، پانچ اوقیہ
صحیح بخاری : ۱۴۸۴
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۴۸۴
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي صَعْصَعَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَيْسَ فِيمَا أَقَلُّ مِنْ خَمْسَةِ أَوْسُقٍ صَدَقَةٌ ، وَلَا فِي أَقَلَّ مِنْ خَمْسَةٍ مِنَ الْإِبِلِ الذَّوْدِ صَدَقَةٌ ، وَلَا فِي أَقَلَّ مِنْ خَمْسِ أَوَاقٍ مِنَ الْوَرِقِ صَدَقَةٌ " , قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ : هَذَا تَفْسِيرُ الْأَوَّلِ ، إِذَا قَالَ لَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسَةِ أَوْسُقٍ صَدَقَةٌ ، وَيُؤْخَذُ أَبَدًا فِي الْعِلْمِ بِمَا زَادَ أَهْلُ الثَّبَتِ أَوْ بَيَّنُوا .
ابو سعید خدری روایت:
پانچ وسق سے کم میں زکوٰۃ نہیں ہے، اور پانچ مہار اونٹوں سے کم میں زکوٰۃ نہیں ہے۔ اور چاندی کے پانچ اوقیہ سے کم میں زکوٰۃ نہیں ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۱۴۸۴ کا خلاصہ
یہ حدیث زکوٰۃ کے نصاب کو سادہ الفاظ میں بیان کرتی ہے۔ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ پانچ وسق سے کم پیداوار میں زکوٰۃ نہیں، پانچ اونٹوں سے کم میں زکوٰۃ نہیں، اور پانچ اوقیہ چاندی سے کم میں زکوٰۃ نہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ زکوٰۃ ہر چھوٹی مقدار پر نہیں، بلکہ مقرر حد تک مال پہنچنے پر واجب ہوتی ہے۔ یہاں نصاب زکوٰۃ، پانچ وسق، اونٹوں کی زکوٰۃ اور چاندی کی زکوٰۃ جیسے اہم موضوعات ایک ہی حدیث میں جمع ہیں۔ حدیث کا انداز بہت صاف ہے، اس لیے اس سے یہ عملی بات سمجھ آتی ہے کہ زکوٰۃ کے معاملات اندازے یا جذبات سے نہیں بلکہ مقرر شرعی حد کے مطابق دیکھے جاتے ہیں۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے بھی اسے پہلے حکم کی وضاحت قرار دیا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- زکوٰۃ کے لیے مال کا مقرر حد تک پہنچنا ضروری ہے۔
- پانچ وسق سے کم پیداوار پر زکوٰۃ کا حکم نہیں آیا۔
- اونٹوں اور چاندی کے نصاب کا ذکر حدیث میں صاف ہے۔
- دینی مالی معاملات میں واضح حدوں کا خیال رکھنا چاہیے۔
