صحیح بخاری حدیث ۱۴۹۹ - رکاز میں پانچواں حصہ
رکاز کی حدیث: دفینے میں پانچواں حصہ
صحیح بخاری : ۱۴۹۹
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۴۹۹
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، وَعَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " الْعَجْمَاءُ جُبَارٌ , وَالْبِئْرُ جُبَارٌ وَالْمَعْدِنُ جُبَارٌ وَفِي الرِّكَازِ الْخُمُسُ " .
ابوہریرہ روایت:
جانور سے جو نقصان پہنچے اس کا کچھ بدلہ نہیں اور کنویں کا بھی یہی حال ہے اور کان کا بھی یہی حکم ہے اور رکاز میں سے پانچواں حصہ لیا جائے۔
صحیح بخاری حدیث ۱۴۹۹ کا خلاصہ
یہ حدیث چند مالی اور ذمہ داری کے معاملات کو مختصر الفاظ میں بیان کرتی ہے۔ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ جانور سے جو نقصان ہو وہ جبار ہے، کنویں کا بھی یہی حال ہے، کان کا بھی یہی حکم ہے، اور رکاز میں پانچواں حصہ ہے۔ یہاں رکاز سے مراد دفینہ یا زمین سے نکلنے والا خاص مال سمجھا جاتا ہے، مگر اس حدیث کے متن میں اصل لفظ رکاز اور اس کا خمس ذکر ہوا ہے۔ اس لیے اس کی تشریح میں احتیاط ضروری ہے۔ حدیث کا اہم سرچ موضوع رکاز کی زکوٰۃ، خمس، جانور کا نقصان، کنواں اور کان کا حکم ہے۔ آسان بات یہ ہے کہ حدیث نے کچھ نقصانات کے بارے میں بدلہ نہ ہونے کا ذکر کیا اور رکاز میں پانچواں حصہ مقرر کیا۔ تفصیلی فقہی صورتیں علمائے کرام کے مطابق الگ بحث رکھتی ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- رکاز میں پانچواں حصہ دینے کا حکم حدیث میں آیا ہے۔
- جانور، کنویں اور کان کے نقصان کا ذکر مختصر انداز میں ہوا۔
- حدیث کے مختصر الفاظ کی تفصیل علمائے کرام سے سمجھنی چاہیے۔
- مالی معاملات میں مقرر حصہ ادا کرنا دینی ذمہ داری ہے۔
