صحیح بخاری حدیث ۱۴۹۷ - زکوٰۃ دینے والوں کے لیے دعا
زکوٰۃ دینے والوں کے لیے دعا: آل ابی اوفی کی حدیث
صحیح بخاری : ۱۴۹۷
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۴۹۷
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى ، قَالَ : " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَتَاهُ قَوْمٌ بِصَدَقَتِهِمْ ، قَالَ : اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى آلِ فُلَانٍ ، فَأَتَاهُ أَبِي بِصَدَقَتِهِ ، فَقَالَ : اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى آلِ أَبِي أَوْفَى " .
عبداللہ بن ابی اوفی روایت:
جب کوئی قوم اپنی زکوٰۃ لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے لیے دعا فرماتے «اللهم صل على آل فلان» اے اللہ! آل فلاں کو خیر و برکت عطا فرما ‘ میرے والد بھی اپنی زکوٰۃ لے کر حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا «اللهم صل على آل أبي أوفى» اے اللہ! آل ابی اوفی کو خیر و برکت عطا فرما۔
صحیح بخاری حدیث ۱۴۹۷ کا خلاصہ
اس حدیث میں زکوٰۃ دینے والوں کے ساتھ نبی کریم صلى الله عليه وسلم کے حسن سلوک کا ذکر ہے۔ جب کوئی قوم اپنی زکوٰۃ لے کر حاضر ہوتی تو آپ صلى الله عليه وسلم ان کے لیے دعا فرماتے: اے اللہ! آل فلاں کو خیر و برکت عطا فرما۔ عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میرے والد اپنی زکوٰۃ لے کر آئے تو نبی صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: اے اللہ! آل ابی اوفی کو خیر و برکت عطا فرما۔ اس حدیث میں زکوٰۃ دینے والے کے لیے دعا، صدقہ قبول کرنے کا ادب، اور نیکی کرنے والے کی حوصلہ افزائی کا پیغام ہے۔ حدیث سے یہ بات واضح ہے کہ زکوٰۃ صرف مالی فریضہ نہیں، بلکہ اس کے ساتھ محبت، دعا اور اچھا برتاؤ بھی ہے۔ البتہ حدیث میں خاص دعا کے الفاظ یہی نقل ہوئے ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- زکوٰۃ دینے والوں کے لیے دعا کرنا نبی صلى الله عليه وسلم کا عمل تھا۔
- نیکی کرنے والے کی حوصلہ افزائی اچھے الفاظ سے کی جا سکتی ہے۔
- زکوٰۃ کے معاملے میں عزت اور نرمی کا انداز رکھا گیا۔
- دعا میں خاندان کا نام لے کر خیر مانگی جا سکتی ہے۔
