صحیح بخاری حدیث ۲۸۶۱ - جابر رضی اللہ عنہ کا اونٹ

جابر رضی اللہ عنہ کے اونٹ کی حدیث: خرید و فروخت میں احسان

صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۸۶۱

حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَقِيلٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْمُتَوَكِّلِ النَّاجِيُّ ، قَالَ : أَتَيْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيَّ ، فَقُلْتُ لَهُ حَدِّثْنِي بِمَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : سَافَرْتُ مَعَهُ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ ، قَالَ أَبُو عَقِيلٍ : لَا أَدْرِي غَزْوَةً أَوْ عُمْرَةً فَلَمَّا أَنْ أَقْبَلْنَا ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أَحَبَّ أَنْ يَتَعَجَّلَ إِلَى أَهْلِهِ فَلْيُعَجِّلْ ، قَالَ جَابِرٌ : فَأَقْبَلْنَا وَأَنَا عَلَى جَمَلٍ لِي أَرْمَكَ لَيْسَ فِيهِ شِيَةٌ وَالنَّاسُ خَلْفِي فَبَيْنَا أَنَا كَذَلِكَ إِذْ قَامَ عَلَيَّ ، فَقَالَ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا جَابِرُ اسْتَمْسِكْ فَضَرَبَهُ بِسَوْطِهِ ضَرْبَةً فَوَثَبَ الْبَعِيرُ مَكَانَهُ ، فَقَالَ : أَتَبِيعُ الْجَمَلَ ، قُلْتُ : نَعَمْ ، فَلَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ وَدَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسْجِدَ فِي طَوَائِفِ أَصْحَابِهِ فَدَخَلْتُ إِلَيْهِ ، وَعَقَلْتُ الْجَمَلَ فِي نَاحِيَةِ الْبَلَاطِ ، فَقُلْتُ لَهُ : هَذَا جَمَلُكَ فَخَرَجَ فَجَعَلَ يُطِيفُ بِالْجَمَلِ ، وَيَقُولُ الْجَمَلُ : جَمَلُنَا فَبَعَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوَاقٍ مِنْ ذَهَبٍ ، فَقَالَ : أَعْطُوهَا جَابِرًا ثُمَّ ، قَالَ : اسْتَوْفَيْتَ الثَّمَنَ ، قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : الثَّمَنُ وَالْجَمَلُ لَكَ " .

ابوالمتوکل ناجی روایت:

میں جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جو کچھ سنا ہے، ان میں سے مجھ سے بھی کوئی حدیث بیان کیجئے۔ انہوں نے بیان فرمایا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھا۔ ابوعقیل راوی نے کہا کہ مجھے معلوم نہیں (یہ سفر) جہاد کے لیے تھا یا عمرہ کے لیے (واپس ہوتے ہوئے) جب (مدینہ منورہ) دکھائی دینے لگا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اپنے گھر جلدی جانا چاہے وہ جا سکتا ہے۔جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ پھر ہم آگے بڑھے۔ میں اپنے ایک سیاہی مائل سرخ اونٹ بےداغ پر سوار تھا دوسرے لوگ میرے پیچھے رہ گئے، میں اسی طرح چل رہا تھا کہ اونٹ رک گیا (تھک کر) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جابر! اپنا اونٹ تھام لے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے کوڑے سے اونٹ کو مارا، اونٹ کود کر چل نکلا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا یہ اونٹ بیچو گے؟میں نے کہا ہاں! جب مدینہ پہنچے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب کے ساتھ مسجد نبوی میں داخل ہوئے تو میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچا اور ”بلاط“ کے ایک کونے میں، میں نے اونٹ کو باندھ دیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا یہ آپ کا اونٹ ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے اور اونٹ کو گھمانے لگے اور فرمایا کہ اونٹ تو ہمارا ہی ہے، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چند اوقیہ سونا مجھے دلوایا اور دریافت فرمایا تم کو قیمت پوری مل گئی۔ میں نے عرض کیا جی ہاں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اب قیمت اور اونٹ (دونوں ہی) تمہارے ہیں۔

صحیح بخاری حدیث ۲۸۶۱ کا خلاصہ

اس حدیث کا مرکزی موضوع حسن معاملہ ہے۔ جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما ایک سفر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔ ان کا اونٹ تھک کر رک گیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کوڑے سے ہلکا سا مارا، وہ چل پڑا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ کیا یہ اونٹ بیچو گے؟ جابر رضی اللہ عنہ نے ہاں کہا۔ مدینہ پہنچ کر انہوں نے اونٹ پیش کر دیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قیمت دلوائی، پوچھا کہ پوری قیمت مل گئی؟ جب جابر رضی اللہ عنہ نے ہاں کہا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قیمت بھی تمہاری اور اونٹ بھی تمہارا۔ اس حدیث میں خرید و فروخت، وعدہ پورا کرنا اور احسان کا خوب صورت سبق ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • خرید و فروخت میں قیمت واضح اور پوری ادا ہونی چاہیے۔
  • نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جابر رضی اللہ عنہ کے ساتھ احسان فرمایا۔
  • سفر میں ساتھی کی تکلیف کا خیال رکھنا چاہیے۔
  • معاملات میں نرمی اور فیاضی اچھی صفت ہے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں