صحیح بخاری حدیث ۲۸۶۵ - ذوالحلیفہ سے احرام باندھنا

ذوالحلیفہ سے احرام باندھنے کی حدیث اور لبیک کا وقت

صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۸۶۵

حَدَّثَنِي عُبَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ أَبِي أُسَامَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنَّهُ كَانَ إِذَا أَدْخَلَ رِجْلَهُ فِي الْغَرْزِ وَاسْتَوَتْ بِهِ نَاقَتُهُ قَائِمَةً أَهَلَّ مِنْ عِنْدِ مَسْجِدِ ذِي الْحُلَيْفَةِ " .

عبداللہ بن عمر روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب اپنا پائے مبارک «غرز» (رکاب) میں ڈالا اور اونٹنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو لے کر سیدھی اٹھ گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد ذوالحلیفہ کے پاس لبیک کہا (احرام باندھا)۔

صحیح بخاری حدیث ۲۸۶۵ کا خلاصہ

اس حدیث کا اصل موضوع احرام اور لبیک کا وقت ہے۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنا پاؤں رکاب میں رکھتے اور اونٹنی آپ کو لے کر سیدھی کھڑی ہو جاتی تو آپ مسجد ذوالحلیفہ کے پاس لبیک کہتے۔ اس روایت میں حج یا عمرہ کے سفر کے ایک خاص عمل کا ذکر ہے، یعنی سواری پر درست بیٹھنے کے بعد لبیک کہنا۔ اس سے ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل کی ایک واضح جھلک ملتی ہے۔ حدیث میں نہ لمبی تفصیل ہے اور نہ کوئی اضافی شرط، بس یہ بتایا گیا ہے کہ مسجد ذوالحلیفہ کے پاس، اونٹنی کے کھڑے ہو جانے کے بعد آپ نے احرام کی تلبیہ کہی۔ اسی لیے ذوالحلیفہ احرام کی حدیث تلاش کرنے والوں کے لیے یہ روایت خاص اہمیت رکھتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لبیک کہنے کا ایک خاص موقع بیان ہوا ہے۔
  • مسجد ذوالحلیفہ کے پاس احرام کا عمل روایت میں آیا ہے۔
  • عبادت کے کام میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے کو سمجھنا ضروری ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں