صحیح بخاری حدیث ۲۸۶۶ - خطرے میں فوری پیش قدمی
بغیر زین گھوڑے پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری کی حدیث
صحیح بخاری : ۲۸۶۶
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۸۶۶
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، " اسْتَقْبَلَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى فَرَسٍ عُرْيٍ مَا عَلَيْهِ سَرْجٌ فِي عُنُقِهِ سَيْفٌ " .
انس بن مالک روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم گھوڑے کی ننگی پیٹھ پر جس پر زین نہیں تھی، سوار ہو کر صحابہ سے آگے نکل گئے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی گردن مبارک میں تلوار لٹک رہی تھی۔
صحیح بخاری حدیث ۲۸۶۶ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع شجاعت اور فوری پیش قدمی ہے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک ایسے گھوڑے پر سوار ہو کر صحابہ سے آگے نکل گئے جس پر زین نہیں تھی، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی گردن مبارک میں تلوار لٹک رہی تھی۔ اس روایت میں بہت مختصر مگر اثر کرنے والی بات ہے۔ اس میں یہ دکھائی دیتا ہے کہ جب ضرورت پیش آئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیر نہیں کی۔ بغیر زین گھوڑے پر سوار ہونا آسان کام نہیں، لیکن روایت کا زور اسی بات پر ہے کہ آپ آگے بڑھے۔ اس حدیث کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شجاعت کی حدیث، گھوڑے پر سواری کی حدیث، اور خطرے میں قیادت کی مثال کے طور پر سمجھا جا سکتا ہے، مگر صرف اسی حد تک جو متن میں آیا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ضرورت کے وقت جلدی قدم اٹھانا روایت سے سمجھ آتا ہے۔
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ سے آگے بڑھے، پیچھے نہیں رہے۔
- روایت میں تلوار ساتھ ہونے کا ذکر تیاری کو ظاہر کرتا ہے۔
