صحیح بخاری حدیث ۲۸۷۴ - حنین میں نبی کریم کی ثابت قدمی
غزوہ حنین میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ثابت قدمی کی حدیث
صحیح بخاری : ۲۸۷۴
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۸۷۴
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنْ الْبَرَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ لَهُ رَجُلٌ : يَا أَبَا عُمَارَةَ وَلَّيْتُمْ يَوْمَ حُنَيْنٍ ، قَالَ : لَا وَاللَّهِ مَا وَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَكِنْ وَلَّى سَرَعَانُ النَّاسِ ، فَلَقِيَهُمْ هَوَازِنُ بِالنَّبْلِ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى بَغْلَتِهِ الْبَيْضَاءِ ، وَأَبُو سُفْيَانَ بْنُ الْحَارِثِ آخِذٌ بِلِجَامِهَا ، وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : أَنَا النَّبِيُّ لَا كَذِبْ أَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبْ .
براء بن عازب روایت:
´ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا، ان سے سفیان ثوری نے بیان کیا کہ مجھ سے ابواسحاق نے بیان کیا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے کہ` ان سے ایک شخص نے پوچھا اے ابوعمارہ! کیا آپ لوگوں نے (مسلمانوں کے لشکر نے) حنین کی لڑائی میں پیٹھ پھیر لی تھی؟انہوں نے فرمایا کہ نہیں اللہ گواہ ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پیٹھ نہیں پھیری تھی البتہ جلد باز لوگ (میدان سے) بھاگ پڑے تھے (اور وہ لوٹ میں لگ گئے تھے) قبیلہ ہوازن نے ان پر تیر برسانے شروع کر دئیے لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سفید خچر پر سوار تھے اور ابوسفیان بن حارث اس کی لگام تھامے ہوئے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے «أنا النبي لا كذب أنا ابن عبد المطلب"» میں نبی ہوں جس میں جھوٹ کا کوئی دخل نہیں۔ میں عبدالمطلب کی اولاد ہوں۔
صحیح بخاری حدیث ۲۸۷۴ کا خلاصہ
یہ روایت غزوہ حنین کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ثابت قدمی کو بیان کرتی ہے۔ ایک شخص نے حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا آپ لوگ حنین کے دن پیٹھ پھیر گئے تھے؟ انہوں نے فرمایا کہ اللہ گواہ ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پیٹھ نہیں پھیری۔ البتہ جلد باز لوگ ہٹ گئے تھے، اور ہوازن نے ان پر تیر برسانے شروع کر دیے۔ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم سفید خچر پر سوار تھے، ابوسفیان بن حارث رضی اللہ عنہ اس کی لگام تھامے ہوئے تھے، اور آپ فرما رہے تھے: «أنا النبي لا كذب أنا ابن عبد المطلب»۔ غزوہ حنین کی حدیث میں اصل بات یہی ہے کہ شدید دباؤ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میدان میں ثابت قدم رہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حنین کے دن پیٹھ نہیں پھیری۔
- جلد باز لوگوں کا ہٹ جانا روایت میں الگ بیان ہوا ہے۔
- سخت وقت میں قیادت کی ثابت قدمی بہت نمایاں ہے۔
